امریکا نے ایران کے ایک ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے دوران امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے ہیں، اس امریکی اقدام کو تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے ایک اہم کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی کرپٹو اثاثوں کے خلاف یہ اقدام امریکی پابندیوں کے نفاذ اور مالیاتی نگرانی کے دائرہ کار میں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کی مالی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پابندیوں سے بچنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ آبنائے ہرمز سے متعلق سوال کے جواب میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اگر کسی قسم کی پابندیاں یا ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے تو یہ عمل مرحلہ وار ہوگا اور تمام اقدامات امریکی مفادات اور خطے کی سکیورٹی کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عمان نے آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اگر کوئی ملک ایران کی ایسی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہوا جو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں تو اس کے خلاف بھی پابندیوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران پہلی مرتبہ ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق براہ راست بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے امریکا ایک اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور امریکی بحری جہاز اب واپسی کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی بحری راستے مکمل طور پر کھلے رہیں۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔
سیاسی اور معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی کرپٹو اثاثوں کی ضبطی کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، جوہری مذاکرات، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے اہم معاملات پر مذاکرات جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئندہ مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔
