وانا کیڈٹ کالج آپریشن مکمل، تمام دہشت گرد ہلاک

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع وانا کیڈٹ کالج کو طالبان دہشت گردوں کے حملے کے 48 گھنٹے بعد کلیئر کروا لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کالج کی عمارت میں موجود دہشت گردوں نے کچھ طلبہ کو یرغمال بنا رکھا تھا جس وجہ سے سکیورٹی فورسز آپریشن سے گریز کر رہی تھیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، پاکستان کو درپیش اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملہ طالبان کی جانب سے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی اس حکمت عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پیر کی شام تقریباً 6 بجے بارود سے بھری ایک گاڑی کالج کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی تھی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دروازہ اور قریبی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ابتدائی دھماکے کے بعد پانچ سے چھ مسلح شدت پسند خودکار ہتھیاروں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
فوجی ترجمان کے مطابق فورسز کی بروقت جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد گیٹ کے قریب ہی مارے گئے، تاہم تین حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق حملے کے وقت وانا کیڈٹ کالج میں 525 کیڈٹس، 40 اساتذہ اور 85 عملے کے دیگر افراد موجود تھے، یوں مجموعی طور پر 650 افراد عمارت کے اندر تھے جنہیں کامیابی کے ساتھ بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ وانا کیڈٹ کالج زڑے نور کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے، جو وانا بازار سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب ہونے کے باعث سٹریٹجک طور پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ کالج کے مغرب میں آرمی کالونی ہے جبکہ شمال کی سمت ایک گرلز اور بوائز کالج، ضلعی اسپتال، پولیس لائنز اور دیگر سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔یہ علاقہ ماضی میں تحریک طالبان کے شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہ چکا ہے۔
