طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے فوجی کرنل کی ویڈیو میں کیا ہے؟

تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں خیبر پختون خواہ کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے اغوا ہونے والے پاکستانی فوجی افسر اور ان کے پولیس افسر بھائی کی ویڈیوز سامنے آ گئی ہیں جس میں دونوں پریشان حال بھائی پاکستانی حکام سے رہائی میں مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ 35 سیکنڈ کی ویڈیو میں لیفٹینٹ کرنل خالد امیر کا کہنا تھا کہ ہم لوگ ایک دور دراز علاقے میں پاکستانی طالبان کی قید میں ہیں جہاں پاکستانی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کرنل خالد امیر اور ان کے بھائی اغوا ہونے والے چار افراد کے گروپ کا حصہ ہیں جس میں ان کے تیسرے بھائی اور ایک بھتیجا بھی شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی نے چاروں کے اغوا کی ذمہ داری تو قبول کر لی تھی لیکن اپنے مطالبات کو عوامی طور پر شئیر نہیں کیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں کرنل امیر کو پاکستانی طالبان کی قید میں پاکستانی حکام سے اپنی آزادی کے حصول میں مدد کی درخواست کرتے دکھایا گیا ہے ۔
بلوچستان لبریشن آرمی کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان چار لوگوں کو اُس وقت اغوا کیا تھا جب وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے والد کی تدفین کے بعد فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے اہلِ علاقہ اور رشتہ داروں کے ساتھ ایک گھر میں موجود تھے۔ ویڈیو کے پس منظر میں روائتی لباس پہنے، ایک اسالٹ رائفل پکڑے دو طالبان دیکھے جا سکتے ہیں جنہوں نے اپنے چہروں کو دانستہ طور پر ویڈیو کے فریم سے باہر رکھا ہوا ہے۔ ویڈیوم میں لیفٹینٹ کرنل خالد امیر نے کسی وضاحت کے بغیر کہا کہ ہم حکومت اور اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری رہائی کے لیے طالبان کے مطالبات کو فوری طور پر مان لیں۔
فوجی کرنل کے اغوا شدہ دوسرے بھائی، آصف امیر، اسسٹنٹ کمشنر پولیس ہیں۔ انہوں نے ویڈیو بیان میں اپنے رشتے داروں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی حکام پر ان کی آزادی کے حصول کے لیے دباؤ ڈالیں۔ وائس اف امریکہ نے ان دونوں ویڈیوز کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باقی دو یرغمالوں کا اتہ پتہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ ٹی ٹی پی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان سویلین قیدیوں کی ویڈیوز نہیں بناتے، جن کا پاکستانی فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق نہیں ہوتا۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی سے پاکستانی فوج کےلیفٹینٹ کرنل خالد امیر کو ان تین عزیزوں سمیت 29 اگست 2024 کو اغوا کیا گیا تھا۔ اسی روز طالبان نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکاروں کو بھی اغوا کیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد مغویوں کو کلاچی سے ملحقہ ایک علاقے لونی لے گئے ہیں۔
مقامی پولیس عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کلاچی تحصیل کے مختلف علاقوں میں اغوا کاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ یاد ریے کہ پاکستانی طالبان ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر پختون خواہ کے دوسرے اضلاع میں، جو کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہیں، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف معمول کے مطابق "حملہ کرو اور بھاگ جاؤ” والی پالیسی اپناتے ہیں۔پاکستانی حکا۔ کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی ،جو عالمی طور پر نامزد ایک دہشت گرد گروپ ہے، افغان علاقے میں محفوظ پناہ گاہوں سے سرحد پار حملے کرتی ہے اور پڑوسی ملک کے اسلام پسند طالبان رہنماؤں کی بڑھتی ہوئی مدد حاصل کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایسے حملوں میں سینکڑوں پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر سیکورٹی فورسز کے ارکان تھے جس کے نتیجے میں کابل کے ڈیفیکٹو حکمرانوں کےساتھ اسلام آباد کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
لیکن افغان طالبان پاکستانی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی نہیں ہے۔
تاہم اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کی حالیہ رپورٹس میں طالبان کے دعوؤں سے اختلاف کیا گیا ہے اور ٹی ٹی پی کو افغانستان کے سب سے بڑے دہشت گرد گروپ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو پاکستان کے قریب سرحدی علاقوں میں القاعدہ کے زیر انتظام تربیتی کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے اور مسلح کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان جنگجو ٹی ٹی پی کی زیر قیادت سرحد پار سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
