ایران امریکہ امن معاہدے میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن اور جوہری معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بعض اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں مذاکرات کاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں کسی قسم کی جلد بازی نہ کی جائے۔ ان کے مطابق “کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے” اور امریکا مکمل احتیاط کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایران پر امریکی پابندیاں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق معاہدے کی دو سے تین اہم شقوں پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی جیسے اہم نکات پر پیچھے ہٹ گیا ہے، جس کے بعد معاہدے کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ایک ایرانی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر امریکا نے مذاکرات میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا تو مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران اپنی قومی عزت، وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی اور ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ضروری ہوگا، جس میں یورینیم افزودگی کی تنصیبات کا خاتمہ اور افزودہ مواد کو ختم کرنا شامل ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات “منظم اور تعمیری انداز” میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں گے تو وہ سابق امریکی صدر اوباما کے معاہدے سے بالکل مختلف اور زیادہ بہتر ہوگا۔

مارکو روبیو نے بھی مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر مل سکتی ہے، لیکن حتمی معاہدہ فوری طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جوہری معاہدے انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں 72 گھنٹوں میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ خطے کے سات یا آٹھ ممالک اس مذاکراتی عمل کی توثیق کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا، تاہم ایرانی مذاکرات کار قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ایرانی عسکری قیادت نے بھی سخت بیانات دیے ہیں۔ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے سے خلیج فارس میں بدامنی کم ہوئی ہے اور آزاد تجارت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ادھر ارسلا وان ڈیر لیین نے امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی کشمکش اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ ٹل سکتی ہے، لیکن اگر اختلافات برقرار رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

Back to top button