بلوچستان میں خفیہ عدالتی نظام کیوں تشکیل دیا گیا ہے؟

کئی دہائیوں سے شورش اور بدامنی کے شکار بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم اب بلوچستان حکومت نے صوبے میں دہشتگردوں کو تیزی کے ساتھ انجام تک پہنچانے کیلئے خفیہ عدالتی نظام کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت صوبے میں دہشتگردی کے مخصوص مقدمات اب عام عدالتوں کی بجائے ایک خفیہ اور خصوصی عدالتی نظام کے تحت چلائے جائیں گے۔ جہاں ججز، وکلا، گواہوں اور مقدمے سے متعلق دیگر افراد کی شناخت کو چھپانے کیلئے خصوصی کوڈ یا علامتی نام دیے جائیں گے جبکہ دہشتگردی کے مقدمات کی سماعتیں اوپن عدالت کی بجائے جیل، مخصوص خفیہ مقامات یا آن لائن ہونگی تاکہ عدالتی عمل میں شامل افراد کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی نے انسداد دہشتگردی قانون میں ترمیم کرکے ایسی نئی شق شامل کر لی ہے جس کے تحت صوبے میں دہشتگردی کے مخصوص مقدمات اب عام عدالتوں کی بجائے ایک خفیہ اور خصوصی عدالتی نظام کے تحت چلائے جائیں گے۔ضرورت پڑنے پر مقدمات کی سماعت عدالتوں کی بجائے جیل اور مخصوص مقامات سے ورچوئل طریقے اور الیکٹرانک ذرائع سے بھی ہو سکے گی جبکہ شناخت چھپانے کے لیے آواز بدلنے کی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا سکے گا۔
نئے قانون کے مطابق اگر دہشتگردی کے کسی مقدمے میں ججوں، وکلا، گواہوں یا دیگر متعلقہ افراد کو غیرمعمولی تحفظ درکار ہو تو چیف جسٹس بلوچستان تین ججوں پر مشتمل پینل تشکیل دیں گے۔ ان میں سے ایک جج کو اتھارٹی مقدمہ سننے کے لیے نامزد کرے گی۔ اسی طرح پانچ سرکاری وکلا کا پینل بنایا جائے گا جن میں سے ایک کو مقدمے کی پیروی کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ ججوں، سرکاری اور صفائی کے وکلا، گواہوں اور متعلقہ افراد کی اصل شناخت پوشیدہ رکھی جائے گی۔ ریکارڈ میں صرف عہدے یا سرکاری عنوان درج ہوں گے جبکہ گواہوں کو خصوصی کوڈ یا علامتی شناخت دی جائے گی۔ عدالتی احکامات بھی پوشیدہ شناخت کے ساتھ دستخط ہوں گے، اس کار یکارڈ سیل کر کے صرف چیف جسٹس اور اتھارٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔مخصوص مقدمات کی کارروائی ویڈیو کانفرنسنگ، آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ جیسے جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع کے ساتھ بھی کی جا سکے گی۔ جبکہ شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے آواز بدلنے کی ٹیکنالوجی بھی استعمال میں لائی جا سکے گی۔ سماعت صرف محفوظ احاطے میں ہوگی جہاں صرف متعلقہ افراد کو رسائی ہو گی۔قانون میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ جہاں ججوں، وکلا یا گواہوں کی شناخت چھپانا ضروری ہو وہاں سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے روایتی عدالت کی بجائے الگ مقام سے بھی کی جا سکے گی۔ اسی طرح اگر تحفظ یا لاجسٹک رکاوٹوں کی وجہ سے ملزم کی پیشی مشکل ہو تو سماعت جیل یا کسی محفوظ مقام سے جدید ورچوئل نظام کے ذریعے کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی ایکٹ 2026 کے نام سے یہ قانون بدھ کو مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی سیکریٹری زرین مگسی نے اسمبلی میں پیش کیا جس کی ایوان میں صرف گوادر سے تعلق رکھنے والے ’حق دو تحریک‘ کے رکن اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے مخالفت کی تاہم حکومتی ارکان کی کثرت رائے سے اسے منظور کر لیا ہے، تاہم اس قانون کی منظوری نے ملک میں انصاف کے روایتی اصولوں اور شفاف عدالتی نظام کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں حکومت اس قانون کو وقت کی ضرورت قرار دے رہی ہے وہیں دوسری جانب ناقدین نے ترمیمی ایکٹ کو انصاف کا قتل اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نیا ہتھیار قرار دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ججز، وکلا اور گواہوں کو تحفظ دینا ناگزیر ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق 2009 میں نصیرآباد میں ایک جج کے گھر پر حملے کے بعد صرف چھ دنوں میں 60 دہشتگرد بری ہو گئے کیونکہ کوئی گواہی دینے کو تیار نہ تھا۔ ججز اور پراسیکیوٹرز کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے اسی مقصد کیلئے اب یہ قانون پاس کروایا گیا ہے ان کے بقول بلوچستان میں دہشتگردی کے مقدمات کی خفیہ سماعتوں بارے قانون سازی کوئی انہونی بات نہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا کے کئی ممالک نے بھی دہشتگردی کے واقعات کے بعد ایسے قوانین متعارف کروا رکھے ہیں۔
تاہم دوسری جانب حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمان اس حکومتی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلے واٹس ایپ پر آئیں گے، جب نہ جج کا پتہ ہوگا، نہ وکیل کا اور نہ گواہ کا، تو ایک عام ملزم اپنی صفائی کیسے دے گا؟ ان کے مطابق 1997 کا انسداد دہشتگردی قانون بھی دہشتگردوں سے زیادہ سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال ہوا۔ لگتا ہے نیا ترمیمی ایکٹ بھی دہشتگردوں کی بجائے سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے حکومت کا نیا ہتھیار ثابت ہو گا۔مولانا ہدایت الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں سخت قوانین بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے اصل اسباب کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا زیادہ ضروری ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مولانا ہدایت الرحمان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ قانون کسی سیاسی کارکن کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ یہ قانون قتل کے عام مقدمات وغیرہ کے لیے نہیں صرف دہشت گردوں کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ججوں، وکلا اور گواہوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے عدالتی معاملات متاثر ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گرد لوگوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کروانا چاہتے ہیں تو وہ ججز، وکلا اور گواہوں کو کیسے چھوڑیں گے؟ نیا قانون بنیادی طور پر ججز، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں بھی اس نئے قانون پر سخت اعتراضات اٹھاتی دکھائی دیتی ہیں ان کا ماننا ہے کہ بلوچستان اسمبلی سے پاس کردہ قانون آئین سے متصادم ہے کیونکہ آئین ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ ’’جب سب کچھ خفیہ ہوگا تو فیئر ٹرائل کہاں سے آئے گا؟ نئے قانون کے مطابق تمام عدالتی کارروائیوں کا ریکارڈ سربمہر ہوگا اور صرف چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور نامزد اتھارٹی کے پاس محفوظ کیا جائے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ خفیہ عدالتی نظام دہشتگردوں کو سزا دینے میں مددگار ثابت ہوگا یا پھر یہ بھی سیاسی مخالفین کے خلاف ایک نیا ہتھیار بن جائے گا؟ ماہرین کے مطابق پاکستان میں انسداد دہشتگردی کے قوانین ماضی میں بارہا سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے خلاف استعمال ہوتے آئے ہیں، اس لیے اس بار بھی ’’غلط استعمال‘‘ کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان کے غیرمعمولی حالات میں حکومت کی جانب سے غیرمعمولی اقدامات بظاہر قابلِ فہم نظر آتے ہیں، مگر انصاف کا بنیادی اصول ’’کھلی عدالت‘‘ ہے۔ اگر عدالتیں، گواہ اور فیصلے سب کچھ خفیہ کر دیے جائیں گے تو سوالات تو ضرور اٹھیں گے۔ دہشتگردی کے خلاف قانون سازی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن کیا یہ خفیہ عدالتی نظام انصاف فراہم کرے گا یا انصاف کے تقاضوں کو مزید دھندلا دے گا۔ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا
