پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کے آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کی لیڈرشپ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری میں تیزی آ چکی ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا وہ ویڈیو پیغام زیر بحث ہے جس میں انھوں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے امریکی کمانڈو آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے قطر پر حملے کو جائز قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد حماس کا ہو یا القاعدہ کا وہ دہشت گرد ہی ہوتا ہے اور اس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اس لیے وہ جہاں ملے اسے مار دینا چاہیے۔
ابھی اس بیان پر بحث جاری تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی اور اسرائیلی مندوبین اس معاملے پر آمنے سامنے نظر آئے۔ قطر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے تناظر میں بلائے جانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے بارے میں حقائق سے منافی ریمارکس دیے، جنکا مقصد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواز پیش کرنا تھا۔ اسی اجلاس میں شریک اسرائیل کے نمائندے نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کا سب سے مطلوب ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن پاکستانی سر زمین پر مارا گیا تھا اور وہ بھی ایک امریکی حملے میں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں نائن الیون حملوں کے 24 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے بیان میں پاکستان اور اسامہ بن لادن کا حوالہ دیتے ہوئے اسے قطر میں کیے گئے اسرائیلی حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔
اس سے پہلے اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر میزائیل حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے ملک پر حملے کے براہ راست ذمہ داران‘ کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اسکے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنایا گیا لیکن وفد محفوظ رہا۔ لیکن ایک قطری سیکورٹی اہلکار سمیت 6 دیگر افراد مارے گئے۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل نے دوحہ پر حملے کی مذمت تو کی تاہم بیان میں اسرائیل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن اس اجلاس میں شامل کئی ممالک خصوصا پاکستان، قطر اور مصر کے نمائندوں نے نہ صرف اپنی تقاریر میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی بلکہ غزہ کی صورتحال اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ نسل کشی پر بھی بات کی۔ اجلاس میں جب پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد کی باری آئی تو انھوں نے اپنی بات کا آغاز دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت سے کیا اور اسرائیل پر غزہ کی صورتحال کے پیش نظر سخت شدید تنقید کی۔
پاکستانی مندوب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایک غیر متعلقہ واقعے کو پاکستان سے جوڑ کر حقائق سے منافی ریمارکس دیے، جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواز پیش کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے اچھی طرح سے واقف ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ہماری انسداد دہشتگردی کی کوششوں کی وجہ سے القاعدہ کا صفایا ہوا۔ لہذا ہم کسی بھی غیر ذمہ دار ریاست کے ایسے بیانات کو قبول نہیں کریں گے جو دہائیوں سے غزہ اور فسلطینی علاقوں میں بدترین ریاستی دہشتگردی کی مجرم ہو۔ اور جیسے قطر نے کیا، ہم بھی کسی بھی غلط تشبیہ کو مسترد کرتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے KPK کو طالبان کے قبضے سے کیسے بچایا؟
پاکستانی نمائندے کی تقریر ختم ہونے پر اسرائیلی نمائندے نے بھی فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید پاکستانی مندوب کو میرے الفاظ بُرے لگے جس کے لیے میں معافی چاہتا ہوں، لیکن میری تقریر حقائق پر مبنی تھی۔ اس نے کہا یہ حقیقت ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا تھا اور کسی نے امریکہ کے اس حملے کی مذمت نہیں کی تھی۔ جب دوسرے ممالک دہشتگردوں کو نشانہ بناتے ہیں تو کوئی ان کی مذمت نہیں کرتا لیکن ہماری مذمت کی جاتی ہے جو کہ دوہرا معیار ہے۔ جب آپ کے اسرائیل کے لیے مختلف اور اپنے لیے مختلف پیمانے ہیں تو مانیں کہ یہ ذیادتی ہے۔
اسرائیلی مندوب نے کہا کہ ’آپ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ نائن الیون کا سانحہ ہوا تھا۔ آپ اس حقیقت کو بھی نہیں بدل سکتے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مارا گیا تھا اور وہ کئی برسوں سے دنیا کا مطلوب ترین دہشت گرد تھا۔ اسرائیلی نمائندے نے کہا کہ میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ ہم پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے دوہرے معیار بارے بھی سوچا کریں۔ وہ معیار جو آپ اپنے ملک پر لاگو کرتے ہیں اس معیار سے مختلف ہے جو آپ اسرائیل کے لیے طے کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو نے قطر پر اسرائیلی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے القاعدہ کا تعاقب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ہلاک کیا تھا، اسی طرح اسرائیل نے حماس کے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان پر دوحہ میں حملہ کیا لہذا دونوں حملے ایک جیسے ہیں۔ ادھر قطر نے اسرائیلی وزیر اعظم کے موازنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن کا بیان نہ صرف اپنے بزدلانہ حملے کا جواز پیش کرنے کی ناکام کوشش ہے بلکہ مستقبل میں بھی ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کرنے کی شرمناک کوشش ہے۔ قطر نے کہا کہ نیتن یاہو پوری طرح واقف ہیں کہ حماس کے دفتر کی میزبانی قطر کی ثالثی کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت ہے جس کی خود امریکہ اور اسرائیل نے درخواست کی تھی لہذا دوحہ پر حملہ قطر کی سالمیت پر حملہ ہے۔
