پاکستان میں نئے صوبوں کے مطالبے کا اصل مقصد کیا ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے اس دیرینہ معاملے کو ایک بار پھر قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نئے صوبے بننے سے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے مساوی مواقع مل سکیں گے، یا یہ بحث موجودہ معاشی، سیاسی اور انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک نئی کوشش ہے؟
مبصرین کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ کئی دہائیوں سے سیاسی، آئینی اور انتظامی مباحث کا حصہ رہا ہے، مگر حالیہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے اس بحث کو ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی ضروریات اور بہتر گورننس کے تناظر میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا، جس کے بعد ملک بھر میں یہ سوال شدت سے زیرِ بحث آ گیا کہ کیا واقعی نئے صوبوں کا قیام عوامی مسائل کا دیرپا حل ثابت ہو سکتا ہے یا پھر یہ موجودہ معاشی، سیاسی اور انتظامی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی ایک نئی کوشش ہے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان، خصوصاً پنجاب، میں آج تک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام مستقل بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکا، جبکہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ جیسا اہم منصوبہ بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آیا۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ ہی پوری طرح فعال نہیں تو نئے صوبے کس حد تک عوامی توقعات پر پورا اتر سکیں گے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ دراصل 1950 کی دہائی میں ون یونٹ پالیسی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا۔ 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ کئی تاریخی اور انتظامی اکائیاں ختم کر دی گئیں، جن میں سابق ریاست بہاولپور بھی شامل تھی، جسے پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کی تحریک نے جنم لیا، جو مختلف ادوار میں آج تک جاری ہے۔
اسی دوران جنوبی پنجاب کے سرائیکی وسیب میں الگ صوبے کی تحریک نے بھی زور پکڑا۔ اس تحریک کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ خطے کو ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ملازمتوں، تعلیم، صحت اور وسائل کی تقسیم میں مسلسل نظرانداز کیا گیا، اس لیے الگ صوبہ ہی محرومیوں کا مؤثر حل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ہزارہ صوبہ تحریک کا آغاز 1957 میں ہوا، تاہم 2010 میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھے جانے کے بعد یہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی۔ اگرچہ ان تمام تحریکوں نے مختلف ادوار میں عوامی حمایت حاصل کی، لیکن آئینی پیچیدگیوں اور سیاسی اختلافات کے باعث آج تک کوئی نیا صوبہ وجود میں نہیں آ سکا۔
2018 کے عام انتخابات کے دوران تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے عوام سے الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا۔ اسی وعدے کے تحت جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کیا گیا تاکہ اختیارات کو جزوی طور پر جنوبی پنجاب منتقل کیا جا سکے۔
لیکن یہ تجربہ زیادہ دیر کامیاب نہ رہ سکا۔ چند ہی عرصے بعد کئی اہم سیکرٹری واپس بلا لیے گئے، جبکہ حالیہ دنوں پنجاب حکومت نے متعدد انتظامی عہدے بھی ختم کر دیے۔ اس صورتحال نے ناقدین کے اس مؤقف کو تقویت دی کہ اگر ایک سیکرٹریٹ ہی مؤثر انداز میں فعال نہیں رہ سکا تو مکمل نئے صوبے کا انتظام کس طرح کامیابی سے چلایا جا سکے گا۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی اب 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ کئی دہائیاں پرانا ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی آبادی کو صرف چار صوبوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے حکومتی فیصلے عوام کے قریب آئیں گے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر ہوگی، وسائل کی تقسیم زیادہ منصفانہ ہوگی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے صوبائی دارالحکومتوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ ان کے نزدیک نئے صوبے علاقائی احساسِ محرومی کم کرنے، مقامی قیادت کو مضبوط بنانے اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس کے برعکس ناقدین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ گورننس کا بحران ہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ صوبوں میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں بنائے جاتے اور شفاف احتساب کا نظام قائم نہیں کیا جاتا تو نئے صوبے بھی انہی مسائل کا شکار ہوں گے جن کا سامنا آج موجودہ صوبے کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے نئی اسمبلیاں، سیکرٹریٹس، عدالتیں، گورنر ہاؤس، سرکاری دفاتر اور ہزاروں نئی آسامیاں درکار ہوں گی، جس سے قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ناقدین کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں اس قسم کا بڑا انتظامی منصوبہ مزید مالی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانے سے زیادہ اہم ضرورت مضبوط بلدیاتی نظام کی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر عوامی مسائل حل کیے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ حالات میں نئے صوبوں کی بحث عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کیے جائیں اور اس کے ساتھ مؤثر بلدیاتی نظام بھی نافذ کیا جائے تو اس سے نہ صرف سیاسی استحکام پیدا ہوگا بلکہ حکمرانی کا نظام بھی بہتر ہو سکے گا۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار رضی الدین رضی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہاولپور، سرائیکی وسیب اور ہزارہ کے عوام کئی دہائیوں سے الگ صوبوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن موجودہ آئینی ڈھانچے، سیاسی اختلافات اور جغرافیائی تقسیم جیسے عوامل اس مطالبے کو عملی جامہ پہنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اس تجویز پر عملدرآمد انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اینکر پرسن ثمینہ پاشا کا خیال ہے کہ آبادی کے لحاظ سے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس سے پہلے انتظامی اخراجات میں کمی، مالی وسائل کی دستیابی اور سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے صوبے بنا دینے سے مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے بھی اس حوالے سے واضح کیا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سب سے بنیادی ضرورت بہتر گورننس اور مؤثر انتظامی نظام ہے۔اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت صرف نئے صوبوں کی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل ہوں، بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور احتساب کا مؤثر نظام موجود ہو۔ اگر یہ اصلاحات نہیں ہوتیں تو چار صوبے ہوں یا دس، عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہ سکتے ہیں۔ تاہم اگر نئے انتظامی یونٹس کو مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی ڈھانچے اور آئینی اتفاقِ رائے کے ساتھ تشکیل دیا جائے تو یہ علاقائی ترقی اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام نہ صرف ایک آئینی اور سیاسی معاملہ ہے بلکہ یہ انتظامی، مالی اور سماجی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع جغرافیہ یقیناً بہتر انتظامی تقسیم کا تقاضا کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ مضبوط گورننس، مؤثر بلدیاتی نظام، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کی تکمیل بھی ناگزیر ہے۔ اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ "نئے صوبے بننے چاہییں یا نہیں؟” بلکہ یہ ہے کہ "کیا موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کیے بغیر صرف نئے صوبے عوام کی محرومیوں اور مسائل کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟” یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی آئندہ سیاسی اور انتظامی سمت کا تعین کرے گا۔

Back to top button