حکومت آزاد کشمیر میں جاری پرتشدد احتجاجی تحریک کو روکنے میں ناکام کیوں؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بار پھر کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان واقعات میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ متعدد افراد اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا بلکہ احتجاج کے محرکات، ریاستی ردعمل اور آنے والے انتخابی عمل پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جمعے کے روز نمازِ جمعہ کے بعد مظفرآباد کے مختلف علاقوں، جن میں لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی، اپر اڈہ اور نیلم روڈ شامل ہیں، مظاہرین نے احتجاج کیا، ٹائر جلائے، سڑکیں بند کیں اور بعض مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور پولیس نے ایک دوسرے پر تشدد کا الزام عائد کیا۔
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص راہگیر تھا۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والا ان کا کارکن تھا جو فائرنگ سے جان کی بازی ہار گیا جبکہ پولیس کی شیلنگ سے تنظیم کے دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ قریب ہے۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ بعض عناصر احتجاج کی آڑ میں انتخابی عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور عوامی مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔
مظفرآباد کے علاوہ میرپور میں بھی انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی اور لاہور میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال پر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تفصیلی پریس کانفرنس میں مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ بدامنی کے پیچھے بھارت کی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتشار پیدا کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس مرتبہ یہ مہم براہِ راست نہیں بلکہ "حقوق” کے بیانیے کی آڑ میں چلائی گئی تاکہ عوامی جذبات کو استعمال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست پہلے ہی اس حکمتِ عملی سے آگاہ تھی اور اسی لیے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا گیا تاکہ عوام خود حقیقت کو پہچان سکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل ایجنڈا اب عوام کے سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کا مقصد عوامی حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا اور آئینی نظام کو چیلنج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے تنظیم کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی تاکہ اگر عوام ان پر اعتماد کریں تو وہ آئینی اور قانونی طریقے سے اپنی بات منوا سکیں، مگر اس کے بجائے احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر ہر گروہ کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت دے دی جائے تو ریاستی نظام مفلوج ہو جائے گا۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے باوجود ریاست نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور قانون کے مطابق کارروائی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور اس معاملے میں فوج براہِ راست شامل نہیں بلکہ آزاد کشمیر پولیس ہی قانون نافذ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جو بھی شخص قانون شکنی یا کسی شہری کے قتل میں ملوث پایا گیا، اسے آئین اور قانون کے مطابق جوابدہ ہونا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بھارت اور پاکستان کے بیانات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ نئی دہلی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج معاشی مشکلات، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی ناانصافی کا نتیجہ ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ احتجاج بیرونی مداخلت اور منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور انتخابی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس سلسلے میں بعض تقاریر اور سوشل میڈیا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے عوامی ایکشن کمیٹی کے حقیقی مقاصد واضح ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقررین نے پاکستانی فوج کو "قابض فوج” قرار دیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج میں بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے مطالبے کا اصل مقصد کیا ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مظفرآباد میں ہونے والے حالیہ احتجاج نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایک طرف عوامی ایکشن کمیٹی اپنے احتجاج کو عوامی حقوق کی جدوجہد قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ریاستی ادارے اسے انتخابی عمل کو متاثر کرنے اور بیرونی مداخلت سے جوڑ رہے ہیں۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ قانون کی بالادستی، شفاف تحقیقات، سیاسی مکالمہ اور عوام کے جائز خدشات کا آئینی حل یقینی بنایا جائے تاکہ نہ صرف امن و امان برقرار رہے بلکہ عوام کا جمہوری اور ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہو۔
