امارات سے پاکستانیوں کی ملک بدری میں اضافہ،اصل وجہ کیا؟

متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی، کئی دہائیوں سے پاکستانیوں کے لیے روزگار، کاروبار اور بہتر مستقبل کی امید کی کرن رہا ہے۔ لاکھوں پاکستانی مزدور، پروفیشنلز، تاجر اور سرمایہ کار وہاں مقیم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی مثالیں دی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں امارات میں مقیم اور وہاں کا سفر کرنے والے بعض پاکستانی شہریوں کی جانب سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جنہوں نے پاکستانی کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔متاثرہ افراد کے مطابق امارات میں پاکستانی شہریوں کے ساتھ امیگریشن اور سکیورٹی جانچ کے عمل میں نمایاں سختی دیکھی جا رہی ہے۔ متعدد تاجروں، کاروباری شخصیات اور حال ہی میں دبئی سے واپس آنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ انہیں غیر معمولی پوچھ گچھ، اضافی جانچ پڑتال اور بعض صورتوں میں محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر ملک بدری جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بعض پاکستانی مسافروں کا کہنا ہے کہ دبئی ایئرپورٹ پر انہیں مخصوص کاؤنٹرز پر بھیجا گیا، جہاں دیگر ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی سوالات کیے گئے اور طویل انتظار کروایا گیا۔ متاثرین کے مطابق اس عمل نے نہ صرف ان کے سفر کو دشوار بنایا بلکہ انہیں نفسیاتی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے بھی دوچار کیا۔ایک پاکستانی تاجر نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے باقاعدگی سے دبئی کا سفر کرتے رہے ہیں، تاہم حالیہ دورے میں پہلی مرتبہ انہیں ایسے امیگریشن مراحل سے گزرنا پڑا جو ان کے بقول غیر معمولی نوعیت کے تھے۔ اسی طرح ایک پاکستانی خاتون، جو اپنے کمسن بچے کے ہمراہ دبئی میں مقیم شوہر سے ملنے گئی تھیں، نے دعویٰ کیا کہ تمام قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود انہیں کئی گھنٹوں تک روک کر مختلف نوعیت کے سوالات کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق صرف نئے آنے والے مسافر ہی نہیں بلکہ برسوں سے امارات میں مقیم پاکستانی بھی بعض اوقات مقامی سکیورٹی اداروں کی جانب سے طلب کیے جانے اور طویل پوچھ گچھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کارروائیوں کو سکیورٹی جانچ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کے خلاف کسی واضح الزام یا قانونی خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی جاتی۔رپورٹس میں یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ بعض مخصوص مذہبی شناخت رکھنے والے افراد کو زیادہ تفصیلی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود مختلف افراد کے بیانات میں مماثلت نے پاکستانی کمیونٹی کے اندر بے چینی پیدا کر دی ہے اور کئی افراد اب مذہبی اور سماجی تقریبات میں شرکت کے حوالے سے بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

سب سے سنگین خدشات ان افراد کی جانب سے ظاہر کیے گئے ہیں جنہیں مبینہ طور پر اچانک ملک بدر کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض متاثرین کے مطابق انہیں اپنے کاروباری معاملات، بینک اکاؤنٹس، گاڑیوں یا دیگر اثاثوں سے متعلق ضروری انتظامات کا مناسب وقت نہیں دیا گیا، جس کے باعث انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی تاجروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں لاکھوں درہم مالیت کے اثاثے امارات میں چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔اسی تناظر میں بعض پاکستانی سرمایہ کاروں نے اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے خصوصی انشورنس پالیسیوں پر بھی غور شروع کر دیا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں ان کے مالی مفادات کو ممکنہ حد تک محفوظ بنایا جا سکے۔

بعض مبصرین اس صورتحال کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال سے بھی جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کے باعث خلیجی ممالک نے اپنی نگرانی اور جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنایا ہے۔ تاہم اس حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ انفرادی واقعات اور وسیع پیمانے پر پالیسی تبدیلی کے درمیان فرق کو واضح کیا جائے اور تمام دعوؤں کی مصدقہ جانچ کی جائے۔

متاثرین اور پاکستانی تاجروں کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ اور قونصل خانے اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، شکایات کا اندراج یقینی بنائیں اور اماراتی حکام کے ساتھ مؤثر رابطے کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے جائز تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق قانون کی پاسداری اور ریاستی سکیورٹی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ اور قانون کی پابندی کرنے والے پاکستانیوں کے وقار اور حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ حکام سفارتی سطح پر رابطوں کو مزید فعال بنائیں، حقائق کی روشنی میں مسائل کی نشاندہی کریں اور ایسے طریقہ کار وضع کریں جن کے ذریعے پاکستانی شہری غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رہتے ہوئے قانونی اور باوقار انداز میں اپنی پیشہ ورانہ اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

Back to top button