مہاجرین کی 12سیٹوں سے ایکشن کمیٹی کو کیا تکلیف ہے؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص بارہ نشستوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں، عدلیہ اور حریت قیادت اس مطالبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان نشستوں کے استعمال کے طریقۂ کار پر اعتراضات موجود ہیں تو کیا ان کا مکمل خاتمہ ہی واحد حل ہے؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کو سیاسی انجینئرنگ اور حکومت سازی میں اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اگر اس مؤقف کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا آئینی خرابیوں کا علاج اصلاحات کے ذریعے ہونا چاہیے یا پورے نظام کو ختم کر دینا چاہیے؟ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین میں موجود کسی بھی خامی کو دور کرنے کے لیے قانون سازی کا راستہ موجود ہوتا ہے۔ اگر کوئی حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ مہاجر نشستوں کے انتخابی طریقۂ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کے لیے پارلیمانی اور آئینی فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ متناسب نمائندگی، ووٹر لسٹوں میں اصلاحات یا نشستوں کی تعداد میں ردوبدل جیسے متبادل آپشنز بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

مبصرین کے بقول یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے ماضی میں ان بارہ نشستوں کو کم کرکے چھ کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ یہ تاثر ختم ہو سکے کہ آزاد کشمیر سے باہر منتخب ہونے والے نمائندے حکومت سازی میں غیر متناسب اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تاہم اس تجویز کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کشمیری مہاجرین کی یہ نشستیں محض انتخابی سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیر کاز کے ساتھ بھی جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہیں۔ ان نشستوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ نمائندگی اس بات کی علامت ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے افراد کے سیاسی حقوق اب بھی تسلیم شدہ ہیں۔ان کے مطابق اگر یہ نشستیں ختم کر دی جائیں تو عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی اور حقِ خودارادیت کے مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ اسی بنیاد پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بھارت ایسے اقدام کو اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ نشستیں ان کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو 1947 اور بعد کے ادوار میں جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔ ان کے حامیوں کے مطابق ان نشستوں کا خاتمہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان موجود سیاسی اور آئینی ربط کو کمزور کر سکتا ہے۔اس معاملے پر آزاد کشمیر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے مہاجرین کی نشستوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔ مختلف آل پارٹیز کانفرنسوں میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس نوعیت کے آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ اور آئینی اداروں میں ہونا چاہیے۔

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اپنے فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی اقدامات یا احتجاجی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازعے کو قانونی اور آئینی تناظر میں دیکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔اسی طرح کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں سے گریز کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور حقِ خودارادیت کے بنیادی نکتے پر یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مبصرین کے مطابق تاریخی طور پر بھی کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کوئی نئی بات نہیں۔ آزاد کشمیر کے ابتدائی آئینی ڈھانچے میں 1970 سے مہاجرین کو نمائندگی حاصل رہی، جبکہ 1974 کے عبوری آئین کے تحت ان نشستوں کی تعداد بڑھا کر بارہ کر دی گئی۔ ان میں سے چھ نشستیں جموں اور چھ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص کی گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خلاصہ یہی ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے اختلافِ رائے موجود ہو سکتا ہے، تاہم آئینی اور سیاسی نظام میں اصلاحات کا راستہ قانون سازی اور مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ معاملہ صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں بلکہ کشمیر کے وسیع تر سیاسی اور تاریخی تناظر سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کے باعث اس پر ہونے والی ہر بحث غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

Back to top button