آفریدی سرکار کی نااہلی،KPحکومت کے اربوں روپے ضائع ہو گئے

پی ٹی آئی کی سہیل آفریدی سرکار یعنی خیبرپختونخوا حکومت کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی۔ موثر پلاننگ کے فقدان، عوامی مسائل سے عدم دلچسپی اور احتجاجی سیاست کو ترجیح دینے کی وجہ سے خیبرپختونخواہ حکمت کے اربوں روپے ضائع ہو گئے۔ ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال کی رفتار توقعات کے برعکس اتہائی کم رہی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 547 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم مالی سال کے اختتام تک تقریباً 250 ارب روپے ہی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جا سکے۔ اس طرح مجموعی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 45 فیصد حصہ ہی استعمال ہو سکا، جبکہ نصف سے زائد فنڈز بروقت استعمال میں نہ لائے جا سکے۔

صوبائی حکومتی ذرائع کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی سست رفتار کے پیچھے انتظامی رکاوٹیں، منصوبوں کی تاخیر اور فنڈز کے بروقت اجرا و استعمال میں مسائل اہم عوامل رہے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات نے ترقیاتی ایجنڈے کو پس منظر میں دھکیل دیا، جس کے باعث متعدد منصوبے مقررہ اہداف حاصل نہ کر سکے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق محکمہ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 22 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح سڑکوں اور مواصلاتی منصوبوں کے لیے 80 ارب روپے رکھے گئے، تاہم ان پر تقریباً 60 ارب روپے ہی استعمال ہو سکے۔ ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں پانچ ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے ساڑھے تین ارب روپے خرچ کیے گئے۔اس کے برعکس امن و امان اور سکیورٹی سے متعلق ترقیاتی سکیموں میں نسبتاً بہتر کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ محکمہ داخلہ کو 14 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے، جن میں سے 12 ارب روپے استعمال کیے جا چکے ہیں، جسے دیگر محکموں کے مقابلے میں بہتر مالی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے بقول ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے بھی صورتِ حال مکمل طور پر تسلی بخش نہیں رہی۔ ذرائع کے مطابق تیز رفتار عملدرآمد پروگرام کے تحت وفاقی حکومت سے 37 ارب روپے موصول ہونا تھے، تاہم صوبے کو صرف 22 ارب روپے ہی مل سکے۔ اس کے باوجود سابقہ فنڈز اور دیگر مالی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 38 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

دوسری جانب آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران وفاق اور صوبے کے درمیان محصولات کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے 65 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا، تاہم صوبائی حکومت نے موجودہ معاشی حالات میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔اطلاعات کے مطابق ابتدائی طور پر صوبے کو 35 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر 65 ارب روپے کر دیا گیا۔ صوبائی حکام کا مؤقف ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے موجودہ ماحول میں مزید ٹیکس عائد کرنا عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

ادھر نئے وفاقی بجٹ سے قبل پشاور کی تجارتی سرگرمیاں بھی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ شہر کی بڑی اسٹیشنری مارکیٹوں میں مختلف تعلیمی اشیا کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تاجروں کے مطابق ممکنہ نئے ٹیکسوں اور قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے باعث بعض دکانداروں نے نیا اسٹاک منگوانے میں احتیاط برتنا شروع کر دی ہے۔

پشاور کے تاریخی تجارتی مرکز چوک یادگار سمیت کئی مارکیٹوں میں درآمدی اور برانڈڈ مصنوعات کی سپلائی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں اور اس کے اثرات عام صارفین تک بھی منتقل ہو رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں ترقیاتی فنڈز کے کم استعمال اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے کو ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد، مالی نظم و نسق اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے مالی سال میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ترقیاتی ترجیحات پر عملدرآمد کی رفتار بہتر بنائی جا سکتی ہے یا نہیں

Back to top button