کیا آزاد کشمیر میں بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح کرفیو لگے گا؟

آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن سے قبل چار سکیورٹی اہلکاروں اور پانچ مظاہرین کی شہادتوں کے بعد امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے کرفیو لگانے کی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کرفیو لگانے کی آپشن پر ابھی تک اس لیے عمل نہیں کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے بھارتی حکومت کرفیو نافذ کرتی ہے۔ تاہم اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو کرفیو لگانے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔
ایک طرف حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی پابندی کے باوجود احتجاجی تحریک جاری رکھنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ ہے، جسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ماہ سے اٹھا رہی ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کی موجودہ حیثیت اور انتخابی طریقہ کار میں اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آئینی نوعیت کا ہے اور اس کا فیصلہ صرف منتخب اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے یا ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے سیکشن 33 میں ترمیم ضروری ہے، اور ایسی آئینی ترمیم صرف آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی تبدیلیوں کا راستہ پارلیمانی عمل سے گزرتا ہے، نہ کہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے۔ سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں اس بات پر زور دیا کہ احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے، تاہم کسی بھی احتجاج کے نتیجے میں عام لوگوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔
ادھر راولاکوٹ میں شاہ زیب نامی نوجوان کے جاں بحق ہونے کے بعد حالات نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا۔ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی اور مظاہرین کا الزام ہے کہ نوجوان پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔ یہی واقعہ بعد میں وسیع احتجاجی تحریک کا محرک بن گیا۔ شاہ زیب کی میت کو سی ایم ایچ راولاکوٹ کے باہر رکھ کر احتجاج شروع کیا گیا اور مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، تب تک تدفین نہیں کی جائے گی۔ اسی دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ آزاد کشمیر پولیس کے مطابق کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح اور پرتشدد عناصر نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔
پولیس کے مطابق ان جھڑپوں میں آزاد کشمیر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ کمشنر راولاکوٹ سردار وحید خان کے مطابق جھڑپوں میں پانچ عام شہری شہید اور 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 13 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ واقعات کی اصل نوعیت کے بارے میں سرکاری اور عوامی مؤقف میں نمایاں اختلاف موجود ہے۔
حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ پولیس کی گاڑیوں اور مساجد کے ذریعے شہریوں کو اجتماعات سے گریز کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ راولاکوٹ اور مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ آزاد کشمیر پولیس کے مطابق مختلف علاقوں سے 72 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما بھی شامل ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ڈھائی سو سے زائد افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے جنہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد ان کی نقل و حرکت اور مالی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے موجودہ بحران پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی خدشہ ظاہر کرتے رہے تھے کہ مذاکرات کا عمل بند ہونے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایکشن کمیٹی سے بارہا مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کشمیری مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ پیچیدہ آئینی اور سیاسی مسئلہ ہے جس پر تمام سیاسی قوتوں کے اتفاقِ رائے کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی آزاد کشمیر میں قتل و غارت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے سلجھانے پر زور دیا ہے۔
تاہم آزاد حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے سیاسی عمل کے بجائے دباؤ کی سیاست اختیار کی اور بعض عناصر ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے باعث تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ آزاد حکومت کے مطابق "ریاست کے اندر ریاست” قائم کرنے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں ہے۔ الیکشن کمیشن شیڈول جاری کر چکا ہے اور سپریم کورٹ بھی واضح کر چکی ہے کہ انتخابات کا انعقاد ہر صورت ہونا چاہیے۔ تاہم اگر احتجاجی تحریک جاری رہتی ہے، گرفتاریاں بڑھتی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتے تو انتخابی مہم شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
مہاجرین کی 12سیٹوں سے ایکشن کمیٹی کو کیا تکلیف ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے آزاد کشمیر کی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کسی مفاہمت کی راہ نکل آتی ہے تو حالات معمول پر آ سکتے ہیں، لیکن اگر تصادم اور کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہا تو انتخابی عمل تنازعات کی زد میں آ سکتا ہے۔ یوں آزاد کشمیر اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی استحکام، آئینی عمل اور عوامی احتجاج تینوں ایک دوسرے کے مقابل آ چکے ہیں، اور آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ مذاکرات کی طرف بڑھتا ہے یا مزید کشیدگی کی جانب۔’
