مودی سرکار نے طلبا کے آگے گھٹنے کیسے ٹیکے؟

بھارت میں پیپر لیکس کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ منظم عوامی دباؤ جمہوری حکومتوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ابتدا میں احتجاج کو طاقت سے دبانے، الزام تراشی اور سخت اقدامات کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی، مگر نوجوان اپنے مطالبات پر ثابت قدم رہے اور بالآخر حکومت کو وزیر تعلیم کا استعفیٰ قبول کرنا پڑا۔ یہ واقعہ صرف بھارت کی سیاست تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے اور طاقت کے ذریعے احتجاج کو دبانے کی پالیسی دیرپا ثابت نہیں ہوتی، جبکہ عوامی اعتماد، انصاف اور جوابدہی ہی پائیدار حکمرانی کی بنیاد بنتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بھارت میں پیپر لیکس کے خلاف جاری طلبہ تحریک بالآخر اپنے بنیادی مطالبے میں کامیاب رہی اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ جمہوری معاشروں میں منظم اور پرامن عوامی تحریکیں حکومتوں کو اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

یہ احتجاج اچانک نہیں بلکہ نوجوانوں میں طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا نتیجہ تھا۔ طلبہ کا مؤقف تھا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت متاثر ہو رہی ہے، پیپر لیکس کے مسلسل واقعات میرٹ پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں اور باصلاحیت نوجوانوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔ جیسے جیسے امتحانی بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آتے گئے، احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور یہ تحریک ملک بھر کے نوجوانوں کی اجتماعی آواز بن گئی۔

ابتدائی مرحلے میں حکومت نے احتجاج کو سختی سے روکنے کی کوشش کی، تاہم طاقت کے استعمال اور تصادم کے واقعات نے تحریک کو مزید تقویت دی۔ اس دوران صرف وزیر تعلیم کے استعفے ہی نہیں بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے تحریک کی بیرونی حمایت کے الزامات بھی سامنے آئے، تاہم طلبہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد صرف شفاف امتحانی نظام اور جوابدہی کا حصول ہے۔

تحریک کی ایک منفرد جہت اس وقت سامنے آئی جب احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے ایک تحقیر آمیز لقب کو اپنی شناخت اور مزاحمت کی علامت بنا لیا۔ اس اقدام نے نہ صرف تحریک کو نئی شناخت دی بلکہ عوامی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی۔ احتجاجی کیمپ، مسلسل مظاہرے اور ملک گیر احتجاج کی دھمکی کے بعد حکومت نے حالات کی نزاکت کو محسوس کیا اور بالآخر وزیر تعلیم کا استعفیٰ قبول کر لیا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ جب نوجوان، طلبہ اور مختلف سماجی طبقات اپنے مطالبات پر متحد ہو جائیں تو حکومتوں کے لیے محض طاقت کے ذریعے احتجاج کو دبانا ممکن نہیں رہتا۔

پاکستان سمیت دیگر جمہوری ممالک کے لیے بھی اس واقعے میں کئی اہم اسباق موجود ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی مسائل کو بروقت حل نہ کیا جائے تو احتجاجی تحریکیں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں۔ اس لیے مؤثر حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ معاملات احتجاج اور تصادم تک نہ پہنچیں۔

Back to top button