غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والا پاکستان مخالف ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مبینہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ سہولت کار کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مخصوص بیانیے کو فروغ دینے، گمراہ کن مواد کو وائرل کرنے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع، بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام اور جعلی آن لائن شناختوں کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ تفتیش کے دوران مبینہ مالیاتی روابط، سوشل میڈیا آرڈرز، بیرون ملک سے منسلک ڈیجیٹل شواہد اور بعض دیگر تنظیمی روابط بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق مذکورہ شخص ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن سروسز کی آڑ میں مخصوص آن لائن مہمات چلانے اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد کو فروغ دینے میں مبینہ کردار ادا کر رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں گرفتار شخص کے بعض مبینہ روابط جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مزید چھان بین جاری ہے۔ تفتیش کے مطابق مشتبہ سہولت کار نے اعتراف کیا کہ وہ بھاری معاوضے کے عوض مخصوص ایجنڈے کے فروغ کے لیے خدمات فراہم کرتا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مبینہ نیٹ ورک کی مالی سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی ادائیگیوں کے بظاہر قانونی ذرائع استعمال کیے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق اسٹرائپ، پےونیر اور برطانیہ میں قائم بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم کی ترسیل کا نظام قائم کیا گیا تھا تاکہ مالی لین دین کو معمول کے کاروباری معاملات کا تاثر دیا جا سکے۔
تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کو مختلف سوشل میڈیا مہمات کے لیے 36 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آرڈرز موصول ہوئے۔ الزام ہے کہ ان رقوم کے ذریعے ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور فیس بک پر منظم انداز میں مواد کو فروغ دیا جاتا تھا، جس کا مقصد گمراہ کن معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا تھا۔
حکام کے مطابق اس مبینہ آن لائن مہم کا مقصد ریاستی اداروں، خصوصاً مسلح افواج اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا، امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا اور حساس قومی معاملات سے متعلق مخصوص بیانیے کو فروغ دینا تھا۔ تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس بظاہر پاکستانی شناخت کے حامل تھے، تاہم ان کے اصل آپریٹرز اپنی شناخت اور مقام چھپانے کے لیے وی پی این، آٹومیشن ٹولز اور دیگر جدید ڈیجیٹل تکنیکیں استعمال کر رہے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق جدید ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات کے دوران متعدد ڈیوائسز کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس، آئی پی ایڈریسز اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے بعض بیرون ملک مقامات سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ ای میلز، آن لائن آرڈرز، مالیاتی لین دین اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر مبینہ سہولت کاروں اور مالیاتی روابط تک بھی رسائی حاصل کی جا سکے۔
ڈیجیٹل میڈیا اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز، شیئرز یا لائکس کسی بھی خبر یا دعوے کی سچائی کا معیار نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق منظم آن لائن مہمات کے ذریعے مصنوعی مقبولیت پیدا کی جا سکتی ہے، اس لیے صارفین کو ہر خبر پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اطلاعاتی جنگ روایتی جنگ جتنی اہم ہو چکی ہے، جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی رائے، عوامی سوچ اور قومی بیانیے کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مبینہ نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے عوام میں ڈیجیٹل شعور بیدار کرنا، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا، بین الاقوامی مالیاتی لین دین پر مؤثر نگرانی رکھنا اور سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
