کیا واقعی موجودہ نظام کی سب سے بڑی بینیفشری پیپلز پارٹی ہے؟

عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سندھ سے بلوچستان اور کشمیر سے گلگت تک پیپلز پارٹی کا ڈنکا بجتا سنائی دیتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ ملکی سیاسی و عوامی حلقوں میں اگر کسی جماعت کے بارے میں یہ سوال سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے کہ آیا وہ موجودہ نظام کی سب سے بڑی بینیفشری ہے یا نہیں، تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پیپلز پارٹی اس تاثر کو مسترد کرتی ہے، تاہم ملک کے مختلف حصوں میں اس کی سیاسی موجودگی اور اہم آئینی مناصب پر اس کا اثرورسوخ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی مسلسل برسراقتدار ہے اور صوبائی سیاست پر اس کی گرفت بدستور قائم ہے۔ بلوچستان میں وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے بڑے صوبوں میں گورنرز کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ وفاق میں صدرِ مملکت کا آئینی منصب پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور چیئرمین سینیٹ بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اس کی حکومت موجود ہے اور گلگت بلتستان میں بھی پارٹی کے حکومت سازی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ تمام حقائق سیاسی مبصرین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا قومی اسمبلی میں محدود عددی طاقت رکھنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اقتدار کے اہم مراکز میں اپنی موجودگی کو غیر معمولی حد تک بڑھا لیا ہے؟پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت نہیں بلکہ صرف حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گورنرز کے عہدوں کو حکومتی شراکت داری کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ صدرِ مملکت کا انتخاب آئینی اور جمہوری عمل کے تحت ہوا۔قمر زمان کائرہ کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بنے بغیر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں حکومتی فیصلوں سے اتفاق ہو وہاں حمایت کی جاتی ہے اور جہاں اختلاف ہو وہاں کھل کر مخالفت بھی کی جاتی ہے۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے مفاہمتی سیاست کے ذریعے اپنے عددی وزن سے کہیں زیادہ سیاسی طاقت حاصل کر لی ہے۔ محدود نشستوں کے باوجود اہم آئینی عہدوں، صوبائی حکومتوں اور فیصلہ سازی کے مراکز میں اس کی موجودگی اسے موجودہ سیاسی سیٹ اپ کا ایک اہم ترین فریق بناتی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق اگر گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے ذریعے وہ طاقت کے تقریباً ہر اہم مرکز میں اپنا کردار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔وفاقی سیاست میں بھی پیپلز پارٹی کی اہمیت نمایاں ہے۔ موجودہ پارلیمانی صورتحال میں وفاقی حکومت کو بجٹ سمیت کئی اہم معاملات میں پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور مالیاتی معاملات میں بھی صوبائی حکومتوں کی رضامندی کے بغیر وفاق کے لیے فیصلے کرنا آسان نہیں۔کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں باضابطہ شمولیت سے گریز کر کے ایک مؤثر سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ حکومتی فیصلوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے اور عوامی ناراضی کی براہِ راست ذمہ داری سے بھی کسی حد تک محفوظ ہے۔

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابی نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ حکومت سے فاصلہ رکھنے کی حکمت عملی پیپلز پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے بقول عوامی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سیاسی نقصان حکمران جماعتوں کو پہنچ رہا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی خود کو ایک نسبتاً محفوظ پوزیشن میں رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیپلز پارٹی آج پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس کا اثر صرف سندھ تک محدود نہیں رہا۔ صدرِ مملکت کے منصب سے لے کر چیئرمین سینیٹ تک، گورنر ہاؤسز سے لے کر صوبائی حکومتوں تک اور اب گلگت بلتستان کی سیاست تک، اس کی موجودگی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی خود کو موجودہ نظام کی بینیفشری سمجھتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس نے اپنی سیاسی مہارت، مفاہمتی حکمت عملی اور طاقت کے مختلف مراکز کے ساتھ روابط کے ذریعے اپنی عددی قوت سے کہیں زیادہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کر لیا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ سیاست میں پیپلز پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی قوت بن چکی ہے۔

Back to top button