پیپلز پارٹی نے بجٹ کیلئے گرین سگنل کس شرط پر دیا؟

ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو موجودہ سیاسی منظرنامے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب وفاقی بجٹ کی منظوری، اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور گلگت بلتستان میں حکومت سازی جیسے اہم معاملات سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث تھے۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ کے حوالے سے دو ادوار پر مشتمل مذاکرات ہو چکے تھے، تاہم کئی اہم نکات پر مکمل اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبوں کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں، عوامی ریلیف اور بجٹ کی ترجیحات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے باعث بجٹ کی منظوری کے عمل پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے تھے۔تاہم ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں جانب سے سیاسی لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام اور بعض دیگر اہم تجاویز پر اتفاقِ رائے پیدا ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے لیے اصولی حمایت کا عندیہ دے دیا ہے، جبکہ بعض تکنیکی امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے عوامی فلاح، معاشی استحکام اور صوبوں کے آئینی حقوق کو بجٹ کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان قومی معیشت، داخلی سلامتی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات کا ایک اہم پہلو گلگت بلتستان کی حالیہ سیاسی صورتحال بھی تھی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد وہاں حکومت سازی کے امکانات نے قومی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے تو اسے حکومت بنانے کا حق دیا جانا چاہیے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن میں بیٹھ کر جمہوری کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے گلگت بلتستان کی طویل المدتی ترقی کے لیے "چارٹر آف گلگت بلتستان” کی تجویز بھی پیش کی، جسے بعض حلقے سیاسی بلوغت اور مفاہمت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت کا گلگت بلتستان میں حکومت بنانا کوئی لازمی روایت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور جمہوری اصولوں کے مطابق اس فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور شازیہ مری کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وفاق میں موجود تعاون کی فضا کو گلگت بلتستان تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے، جس سے سیاسی استحکام کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔ملاقات میں قومی سلامتی، داخلی چیلنجز اور علاقائی صورتحال بھی زیرِ غور آئی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سفارتی روابط اور مذاکرات کے ذریعے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت کو اپنے حالیہ سفارتی دوروں اور علاقائی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایوانِ صدر میں ہونے والی یہ ملاقات محض بجٹ سے متعلق مشاورت نہیں بلکہ وفاقی سیاست میں ایک نئے توازن اور مفاہمت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ موجودہ پارلیمانی صورتحال میں حکومت کو اہم قانون سازی اور بجٹ منظوری کے لیے اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہے، جبکہ اتحادی جماعتیں بھی اپنی سیاسی ترجیحات اور عوامی مفادات کے تحفظ کی خواہاں ہیں۔ مبصرین کے بقول اگر یہ مفاہمتی فضا برقرار رہتی ہے تو نہ صرف وفاقی بجٹ کی منظوری نسبتاً آسان ہو سکتی ہے بلکہ آئندہ مہینوں میں قانون سازی، معاشی فیصلوں اور قومی معاملات پر بھی مشترکہ حکمت عملی اختیار کیے جانے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر ایوانِ صدر کی یہ ملاقات پاکستان کی موجودہ سیاست میں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کے رجحان کو تقویت دینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ سیاسی ہم آہنگی عارضی ضرورت ثابت ہوتی ہے یا مستقبل میں حکومتی استحکام اور جمہوری تسلسل کی مضبوط بنیاد بن پاتی ہے۔

Back to top button