جب پاکستان نے طالبان حکومت تسلیم کی

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
افغان وار لارڈجنرل عبدالرشید دوستم اور انکے سیکنڈ ان کمانڈ عبدالمالک پہلوان کے درمیان ناچاقی تھی کیونکہ عبدالمالک پہلوان کا خیال تھا کہ اسکے بھائی رسول پہلوان کودوستم نے مروایاہے۔طالبان نےانہی ختلافات کا فائدہ اُٹھایا، عبدالمالک پہلوان سے ہاتھ ملایا اور مزار شریف پر دھاوا بول دیا۔ عبدالمالک پہلوان کے علاوہ تین دیگر ازبک جرنیل بھی طالبان سے ہاتھ ملا چکے تھے۔عبدالرشید دوستم نے اپنے سپاہیوں کو پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں دی تھی ،اسلئے فوج میں بے چینی تھی۔شمالی صوبے ایک ایک کرکے فتح ہوتے چلے گئے تودوستم نے راہ فرار اختیار کی۔اپنے ہی سپاہیوں کو رشوت دیکر اس نے محفوظ راستہ حاصل کیا ،پہلے ازبکستان اورپھر ترکی چلاگیا۔

ملا عبدالرزاق جس نے سابق افغان صدر نجیب اللہ کے قتل کا حکم دیا تھا،اسکی قیادت میں لگ بھگ 2500طالبان مزار شریف میں داخل ہوگئے ۔ عبدالمالک پہلوان جس نے دوستم سے غداری کی اور فریاب میں طالبان کیخلاف لڑنے والے ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان کو بھی طالبان کے حوالے کردیا ،اسے نجانے کیا خواب دکھائےگئے تھے مگراب نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر راضی کرنیکی کوشش کی گئی۔طالبان نے مزار شریف میں داخل ہوتے ہی ازبک اور ہزارہ سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا شروع کردیا ،مساجد سے اعلان کیا گیا کہ خواتین کا گھروں سے نکلنا منع ہے ،موسیقی حرام ہے ۔مزارشریف کے شہری اس طرز کی شریعت سے قطعاً آشنا نہ تھے ۔اگرچہ انکی قیادت کرنیوالے جنرل عبدالرشید دوستم بزدلوں کی طرح فرار ہوچکے تھے مگر مزار شریف کے لوگ شکست تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔28مئی 1997ء کو ہزارہ سپاہیوں کے ایک گروپ نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کردیا اورمزاحمت کی تو پورا شہر بغاوت پر اُتر آیا۔

طالبان کیلئےمزار شریف ایک اجنبی شہر تھا اس لئے انہیں بھاگنے کا راستہ بھی نہ ملا ،چند گھنٹوں کی لڑائی میں 600طالبان مارے گئے ۔ملا عبدالرزاق ،طالبان کے وزیر خارجہ ملامحمد غوث اور افغان سینٹرل بنک کے گورنر ملا احسان اللہ سمیت کئی طالبان رہنما گرفتار کرلئے گئے۔جنرل عبدالمالک پہلوان نے صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شمالی صوبوں ،تخار،فریاب،جوزجان اور سرائے پل پر پھر سے قبضہ کرکے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا۔

طالبان کو بدترین اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوماہ کی لڑائی کے دوران 3000طالبان مارے گئے ،مرنیوالوں میں 250پاکستانی بھی شامل تھے ۔ہزارہ قبائل نے مزارشریف کی فتح سے حوصلہ پاکر پیشقدمی کی اور اپنے آبائی وطن ہزارہ جات کا 9ماہ سے محاصرہ کرکے بیٹھے طالبان پر دھاوا بول دیا۔اُدھر احمد شاہ مسعود نے موقع غنیمت جا ن کر پیشقدمی کی اور جبل السراج کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کو بامیان سے پیچھے دھکیل دیا اور پھر جولائی میں چاریکار فتح کرکے احمد شاہ مسعود کی فوجیں کابل سے 20کلومیٹر کی دوری پر پہنچ گئیں۔بہت زیادہ جانی نقصان کے سبب طالبان کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا چنانچہ ایک طرف پاکستانی مدارس سے کمک منگوائی گئی تو دوسری طرف شمالی علاقوں میں غلزئی پشتونوں کی قیادت کرنیوالے جلال الدین حقانی کو نئی ریکروٹمنٹ کا ٹاسک دیا گیا۔

طالبان جس دن مزارشریف میں داخل ہوئے ،پاکستان نے اسی دن انکی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔نسیم زہرہ اپنی کتاب ’’From Kargil to Coup‘‘کے صفحہ نمبر 78پر لکھتی ہیں کہ جب آئی ایس آئی طالبان پر فریفتہ تھی تو وزیراعظم نوازشریف ان سے متعلق تحفظات کا شکار تھے ۔پاکستان کی افغان پالیسی بڑی حد تک فوج اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں میں تھی۔مثال کے طور پر 25مئی 1997ء کو افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے کیا۔وزیراعظم اسلام آباد ،لاہور موٹروے پر سفر کر رہے تھے،تو انہیں آگاہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔طالبان کی طرف سے 25مئی کو اتوار کے دن مزارشریف کا نتظام سنبھالنے پر اظہار تشکر کے طور پر عجلت میں اسی دن ہی طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔اس روز اتوار تھا مگر مزارشریف فتح کرنے کی خوشی میںدفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل افغانستان افتخار مرشد نے چھٹی کے دن دکان کھولی اورافغانستان میںپاکستانی سفیر عزیز خان کے ہمراہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات مشاہد حسین سید بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ یہ فیصلہ سویلین حکومت نے نہیں کیا،مشاہد حسین سید کے مطابق پی ٹی وی پر خبر چل گئی ،وزیراعظم نوازشریف نے پوچھا کہ یہ خبر کس نے چلوائی؟ چیئرمین پی ٹی وی پرویز رشید بھی اس سے لاعلم تھے ۔معلوم ہوا کہ مقتدر حلقوں سے احکامات ملنے پر طالبان حکومت تسلیم کرنے کی خبر چلوائی گئی۔پاکستان کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے کے بعد طالبان کی فتح شکست میں بدل گئی مگر مشکل حالات میں طالبان کو مدد فراہم کرنے کی غرض سے دو اہم عرب ممالک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

احمد رشید اپنی کتاب ’’طالبان‘‘کےصفحہ نمبر 101پر لکھتے ہیں کہ اس دوران طالبان نے پاکستان اور سعودی عرب سے کہا کہ شمالی علاقہ جات واپس لینےکیلئے، ایک نئی مہم جوئی کیلئے ان کی مدد کی جائے۔سعودی انٹیلی جنس چیف نے جون 1998ء کے وسط میں قندھار کا دورہ کیا جسکے بعد سعودی عرب کی طرف سے طالبان کو 400پک اپ ٹرک اور مالی امداد فراہم کی گئی۔ایک طرف مہاجر کیمپوں اور مدارس سے ہزاروں پاکستانی اور افغان ریکورٹ طالبان میں بھرتی ہورہے تھے تو دوسری طرف آئی ایس آئی کے افسر اس مہم جوئی میں طالبان کی مدد کرنے کیلئے قندھار کے متواتر دورے کر رہے تھے۔اس دوران ایران ،روس اور ازبکستان نے طالبان مخالف دھڑوں کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کردیا۔

 

Back to top button