قومی اسمبلی میں ہمیشہ خاموش رہنے والے 40 فیصد ممبران کونسے ہیں؟

2024میں بھی قومی اسمبلی ایک اکھاڑے کا منظر پیش کرتی نظر آئی۔ اجلاسوں میں پارلیمان کی بڑی سیاسی جماعتیں حسب معمول عوامی فلاح کیلئے مثبت بحث مباحثے کی بجائے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلاتی نظر آئیں۔ جہاں ایک طرف حکومتی و اپوزیشن اراکین اپنے جذباتی اور تنقیدی خطابات سے مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کرتے اور انھیں آڑے ہاتھوں لیتے دکھائی دئیے وہیں پارلیمنٹ میں موجود 40فیصد حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے خود کو ”YESاورNOتک محدود رکھا جبکہ ایوان کی باقی کارروائی پر خاموش رہے ۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد 16 ویں قومی اسمبلی کی تشکیل ہوئی  قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو منعقد کیا گیا تھا جبکہ سال رواں میں اس کے مجموعی طور پر 11 اجلاس طلب کیے گئے۔ 2024 میں قومی اسمبلی نے سب سے اہم 26 ویں آئینی ترمیم منظور کی جبکہ اس کے علاوہ 55 سے زائد بل اور 34 ایکٹ بھی منظور کیے گئے۔ اس سال سینیٹ کے 9 اجلاس طلب کیے گئے جن میں 26ویں آئینی ترمیم کے علاوہ 50 بل منظور کیے گئے۔

قومی اسمبلی نے 29 اپریل 2024 کو پہلا اہم ترین ٹیکس قوانین ترمیمی بل منظور کیا تھا جس کا ہدف ملک بھر میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔ اس بل میں نان فائلرز پر بہت سی پابندیاں لگی تھیں جبکہ سیلز ٹیکس جمع نہ کروانے والے دکانداروں، صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے بھی سختیاں بڑھائی گئیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 6 اگست کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران کثرت رائے سے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا۔ اس بل کے ذریعے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس بل میں قرار دیا گیا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے والا امیدوار آزاد تصور ہوگا اور کسی بھی امیدوار کی جانب سے مقررہ مدت میں ایک مرتبہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اظہار ناقابل تنسیخ ہو گا۔

بل میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کی فہرست مقررہ وقت یعنی 3 روز میں جمع نہیں کراتی تو وہ پارٹی بعد میں مخصوص نشستوں کے کوٹے کی اہل نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر ایک آزاد رکن ایک مرتبہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو وہ کسی اور جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا۔

سال 2024 کی اہم ترین قانون سازی 26ویں آئینی ترمیم رہی۔حکومت اور اتحادیوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کے لیے کئی ماہ کوششیں کیں تاہم وہ منظور نہیں ہو پا رہی تھی جس کے بعد 20 اکتوبر کو اتحادیوں اور مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن کے کچھ اراکین کی حمایت سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور کر لی گئی۔

آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کی گئی اور قرار دیا گیا کہ سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے 4 سینیئر ججز کے اور اتنے ہی اراکین پارلیمنٹ بھی ہوں گے۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی کہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی بجائے 3 نام اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور کمیٹی ایک کو چیف جسٹس لگانے کی سفارش کرے گی۔

عمران خان کو گھر پر نظر بندی کی سہولت کیوں نہیں مل سکتی؟

آئینی ترمیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی مدت کو 3 سال کر دیا گیا۔ ترمیم میں از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق قانون میں ترمیم کی گئی ہے اور قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں نہ کوئی ازخود نوٹس لے سکتی ہے اور نہ کسی ادارے کو کوئی ہدایت دے سکتی ہے یہ اختیارات آئینی بینچ کو دے دئیے گئے۔علاوہ ازیں آئینی مقدمات کی سماعت کے لیے آئینی بینچ کی تشکیل کو بھی ترمیم میں شامل کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے 5 نومبر کو اہم قانون سازی کرتے ہوئے فوجی سربراہان کی مدت ملازمت بڑھانے کا بل منظور کیا جس کے بعد اب آرمی چیف سمیت تینوں افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت کو 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دیا گیا ہے۔ اسی روز سپریم کورٹ کے ججوں کے تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 اور ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 کرنے کا بل بھی منظور کیا گیا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا پارلیمانی سال 29فروری 2024کو شروع ہوا اس دوران سب سے طویل سیشن 9ویں اور 10ویں رہے اس دوران اہم قانون سازی کے لئے اجلاسوں کے شیڈول اور وقت بھی تبدیل کئے جاتے رہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دو دن اور ایک رات مسلسل اجلاس جاری رہا  ۔پارلیمانی کیلنڈر کے تحت قومی اسمبلی کے 19 دسمبر تک ہونے والے اجلاس میں109دنوں کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے ، قواعد کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس 130ہونا لازمی ہیں اس طرح 21دنوں کے اجلاسوں کی کارروائی باقی ہے ۔

Back to top button