عمران کی بہنیں فوج کے خلاف زہر کیوں اگل رہی ہیں؟

عمران خان کی بہنیں بھی مسلسل اپنے بھائی کی طرح مسلسل فوج مخالف بیانات جاری کرنے کی اس ریاست دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے بانی کی رہائی اب ایک خواب بن چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے خاندان کی جانب سے اپنائی گئی فوج مخالف پالیسی کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے کو کمزور کرنا اور عوام میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی فوج کے خلاف بد زبانی کی وجہ سے ہی وہ پچھلے کئی ماہ سے نہ تو اپنے وکلا سے مل سکے ہیں اور نہ ہی اپنے بہنوں سے انکی ملاقات ہو سکی ہے۔ فیصلہ سازوں نے خان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے چونکہ وہ جیل میں ہونے والی ہر ملاقات کے بعد اپنے ملنے والوں کے ذریعے فوج مخالف پالیسی بیان جاری کروایا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان فوج اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف بدزبانی کیا کرتی تھی لیکن اس مرتبہ خان کی دوسری بہن نورین خان نے عسکری قیادت پر بیہودہ الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ عقل اور فہم کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے نورین نیازی نے ایک انٹرویو میں یہ بونگی ماری ہے کہ معرکۂ حق افواجِ پاکستان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا گٹھ جوڑ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جان بوجھ کر جنگ ہاری تاکہ پاکستانی فوج عوام میں مقبول ہو کر اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی پوزیشن میں آ جائے۔ موصوفہ نے اسرائیل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ابراہم معاہدوں سے متعلق بھی مختلف دعوے کیے۔
نورین نیازی نے کہاکہ معرکہ حق افواجِ پاکستان اور مودی کا گٹھ جوڑ تھا، مودی کے ساتھ مل کر ڈراما کیا گیا، مودی چاہتا تو دو منٹ میں پاکستانی فوج کو فکس کردیتا، لہکن وہ اس لیے رکا کہ اسرائیل ان کے پیچھے تھا۔ نورین خان کا کہنا تھا کہ دراصل مودی نے پاک فوج کی قیادت سے اسرائیل کو تسلیم کرانا تھا، ٹرمپ بھی اسی لیے ان کی تعریفیں کرتا ہے، اسی لیے پاکستان کے بھارت کے ساتھ جنگ جیتنے کا تاثر پیدا کیا گیا تاکہ فوج عوام میں مقبول ہو جائے اور اسانی سے اصلاحی کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر سکے۔نورین نیازی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ نے پاکستان سے ابراہیم معاہدے پر دستخط کرانے تھے اور اسی لیے جنگ ہاری گئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اسرائیل سے پاکستان کے رابطے تھے اور بھارت سے جنگ جیتنے کا سارا ڈراما پاک فوج کو عزت دلانے کے لیے کیا گیا۔
تاہم ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہی تھا تو جنگ ختم ہوئے تو دو برس ہو گے لیکن پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کیا۔ ابکے مطابق نورین نیازی کا لب و لہجہ اور سوچ خان کے اس مخصوص بیانیے کے عکاسی ہیں جس کا محور صرف اور صرف ذاتی مفاد ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان، ان کی بہنیں اورخاندان اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ملک کی سالمیت کو بھی داو پر لگا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بد زبان نورین خان کا مذموم بیان عمران خان کے پاک فوج مخالف بیانیے کی عکاسی کرتا ہے اور بھارتی بیانیے کو تقویت دیتا ہے جسے اب بھارتی میڈیا پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں نے نورین خان کے مؤقف کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حساس معاملات پر بغیر شواہد کے الزامات قومی مفاد اور ریاستی اداروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے گزشتہ چند برسوں کے دوران فوجی قیادت اور ریاستی اداروں پر مسلسل تنقید کے بعد اب ان کی بہنیں بھی اسی طرزِ سیاست کو آگے بڑھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے بلکہ عمران خان کی رہائی کے امکانات کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات 2022 میں انکے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد کھل کر سامنے آئے جس کے بعد سے سابق وزیراعظم عوامی جلسوں، ویڈیو پیغامات اور عدالتی پیشیوں کے موقع پر فوجی قیادت پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں نے ان الزامات کو بارہا مسترد کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کی بہنیں، بالخصوص علیمہ خان اور نورین نیازی، میڈیا اور عدالتوں کے باہر مسلسل بیانات دیتی رہی ہیں اور متعدد مواقع پر انہوں نے بھی ریاستی اداروں کی پالیسیوں اور فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
حکومتی شخصیات کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر غیر مصدقہ الزامات عوام میں بے یقینی پیدا کرتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کی قیادت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہارِ رائے کا حق استعمال کر رہی ہے۔
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے حساس سکیورٹی ماحول میں قومی اداروں سے متعلق گفتگو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ داخلی استحکام اور قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔ نورین نیازی کے حالیہ بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی سخت بحث جاری ہے، جہاں ایک طرف تحریک انصاف کے حامی ان کا دفاع کر رہے ہیں تو دوسری جانب ناقدین ان کے مؤقف کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، خصوصاً اگر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی بیان جاری کرتی ہے۔اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا تحریک انصاف نورین نیازی کے متنازع بیانات سے متعلق کوئی باضابطہ وضاحت پیش کرتی ہے یا نہیں، جبکہ سیاسی حلقے اس بحث کے ملکی سیاست پر ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
۔
