پٹرول اصل قیمت سے 140 اور ڈیزل 116 روپے فی لیٹر مہنگا کیوں؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو صرف عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا ہی سامنا نہیں بلکہ اصل قیمت اور پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت کے درمیان بھاری بھرکم ٹیکس، لیوی اور مختلف مارجنز کا فرق بھی شہریوں کی جیب پر مسلسل بوجھ بن چکا ہے۔ تازہ دستاویزات نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا ایسا حساب سامنے رکھ دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے ہے، لیکن صارف اسے 327 روپے 62 پیسے میں خرید رہا ہے، یعنی بنیادی لاگت کے مقابلے میں تقریباً 129 روپے 93 پیسے اضافی ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے ہے، جبکہ صارفین سے 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس میں پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، اندرون ملک مال برداری کا مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز شامل ہیں۔ یوں پٹرول اور ڈیزل صرف ایندھن نہیں رہے بلکہ حکومت، صنعت اور کاروباری مارجنز کے مجموعی مالی بوجھ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر عوامی بحث کا مرکز بن گئی ہیں، تاہم اس بار سوال صرف یہ نہیں کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگے کیوں ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک لیٹر ایندھن کی اصل قیمت اور صارف سے وصول کی جانے والی قیمت میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟
تازہ دستاویزات کے مطابق پٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ اس وقت صارفین کے لیے اس کی مقررہ قیمت 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہے۔ یعنی بنیادی لاگت کے مقابلے میں صارف تقریباً 129 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافی ادا کر رہا ہے۔
یہ اضافی رقم مختلف ٹیکسوں، لیوی اور مارجنز کی صورت میں قیمت کا حصہ بنتی ہے۔
پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 80 روپے پٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔
اسی طرح پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 48 پیسے اندرون ملک مال برداری کا مساواتی مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 7 روپے 87 پیسے مارجن اور ڈیلرز کا 8 روپے 64 پیسے مارجن شامل ہے۔
یوں صرف پٹرول کی بنیادی لاگت اور صارف کی جانب سے ادا کی جانے والی حتمی قیمت کے درمیان فرق ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ٹیکس، لیوی اور مختلف مارجنز کا حصہ انتہائی نمایاں ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے ہے، جبکہ صارفین سے اس کی مقررہ قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر وصول کی جا رہی ہے۔یعنی بنیادی لاگت کے مقابلے میں تقریباً 116 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافی رقم مختلف لیوی، ٹیکسز اور مارجنز کی صورت میں صارف ادا کر رہا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 74 روپے 28 پیسے پٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے اندرون ملک مال برداری کا مساواتی مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 7 روپے 87 پیسے مارجن اور ڈیلرز کا 8 روپے 64 پیسے مارجن شامل ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت اور پمپ کی قیمت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت صرف درآمدی یا بنیادی لاگت سے طے نہیں ہوتی۔ خام تیل یا تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت، درآمدی اخراجات، کسٹمز ڈیوٹی، اندرون ملک نقل و حمل، حکومتی لیویز اور کاروباری اداروں کے مارجنز سمیت مختلف عوامل حتمی قیمت تشکیل دیتے ہیں۔
لیکن موجودہ اعداد و شمار یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ جب ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت تقریباً 198 روپے ہو اور صارف سے 328 روپے کے قریب وصول کیے جائیں تو باقی رقم کہاں کہاں خرچ ہو رہی ہے۔اسی طرح ڈیزل کی بنیادی لاگت تقریباً 265 روپے فی لیٹر ہونے کے باوجود صارف تقریباً 381 روپے ادا کرتا ہے۔یہ فرق خصوصاً اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی اور ملکی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتی ہیں۔
معاشی ماہرین کے بقول پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافی بوجھ کا اثر صرف گاڑی چلانے والے صارف تک محدود نہیں رہتا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، مال برداری مہنگی ہوتی ہے، زرعی مشینری کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
خصوصاً ڈیزل کی قیمت کا اثر زرعی شعبے، ٹرکوں، بسوں، مال بردار گاڑیوں اور صنعتی سرگرمیوں پر براہ راست پڑتا ہے۔ اس لیے ڈیزل پر عائد ہر اضافی روپے کا اثر بالآخر کسی نہ کسی شکل میں عام صارف تک پہنچتا ہے۔
دوسری طرف پٹرول عام شہری کی روزمرہ سفری ضروریات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ موٹر سائیکل سے دفتر جانے والے مزدور سے لے کر نجی گاڑی استعمال کرنے والے متوسط طبقے تک، پٹرول کی قیمت میں اضافہ ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم صارفین کے لیے سوال یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر پہلے ہی بھاری مالی بوجھ کے باوجود قیمتیں مسلسل عام آدمی کی قوت خرید کو کیوں متاثر کر رہی ہیں۔
دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز بھی قیمت کا مستقل حصہ ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں آئل مارکیٹنگ کمپنی کا 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلر کا 8 روپے 64 پیسے مارجن شامل ہے، جبکہ ڈیزل میں بھی یہی مارجنز موجود ہیں۔
اس صورتحال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا پورا ڈھانچہ عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے ساتھ رکھنے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ صارف کو معلوم ہو سکے کہ وہ جو رقم پمپ پر ادا کر رہا ہے، اس میں کتنا حصہ اصل ایندھن کی قیمت ہے، کتنا حکومت کے محصولات کا اور کتنا مختلف کاروباری مارجنز کا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتے ہیں: اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تو کیا پاکستان میں صارف کو بھی اسی تناسب سے ریلیف ملتا ہے؟اور اگر عالمی قیمت بڑھنے کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو کیا قیمت میں موجود بھاری ٹیکس اور لیوی کا بوجھ کم کرکے عوام کو کچھ ریلیف دیا جا سکتا ہے؟فی الحال حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی بنیادی لاگت اور صارف کی ادا کردہ قیمت کے درمیان تقریباً 130 روپے کا فرق ہے، جبکہ ڈیزل میں یہ فرق 116 روپے سے زائد ہے۔ یہی فرق پاکستان کے پٹرولیم قیمتوں کے پورے نظام، حکومتی محصولات اور عام صارف پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
