آزاد کشمیر میں شکست کے بعد بلاول نے PMLNکو رگڑا کیوں لگایا؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جارحانہ تقریر نے نہ صرف انتخابی عمل بلکہ ریاستی کردار، قومی مفاد اور سیاسی بیانیے پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ خطاب صرف تحفظات کے اظہار تک محدود نہیں بلکہ دو اگست کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات سے قبل اپنی جماعت کے حق میں سیاسی ماحول ہموار کرنے کی ایک منظم کوشش بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب پہلے مرحلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) اس بیانیے کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے اپنی انتخابی برتری کو ہی آئندہ مراحل کے لیے سب سے بڑا سیاسی سرمایہ سمجھ رہی ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد ملکی سیاست ایک نئے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی حالیہ تقریر میں ریاستی کردار، انتخابی شفافیت اور مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد مقدم ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کا مفاد۔ ان کا یہ بیان کہ "آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے” سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر چکا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو کی تقریر کو محض احتجاج نہیں بلکہ دوسرے مرحلے کے انتخابات سے قبل اپنی جماعت کے ووٹرز کو متحرک کرنے اور انتخابی ماحول اپنے حق میں ہموار کرنے کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے تیرہ میں سے نو نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی، پیپلز پارٹی کے لیے سخت سیاسی بیانیہ اختیار کرنا ایک انتخابی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تقریباً ہر انتخاب کے بعد شکست خوردہ جماعتیں انتخابی نتائج کو دھاندلی یا ریاستی مداخلت سے جوڑتی رہی ہیں۔ یہی روایت ملک میں سیاسی کشیدگی اور قومی تقسیم کا باعث بنتی رہی ہے۔ 1970ء کے انتخابات سے لے کر آج تک عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے کی سیاست نے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا اور ریاستی اداروں کو بھی مسلسل سیاسی تنازعات کا حصہ بنایا۔

بلاول بھٹو کے تحفظات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کے ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ سندھ، خصوصاً کراچی میں ہونے والے انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتیں بھی انہی نوعیت کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور وزیراعظم فیصل راٹھور کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے، جس کے باعث انتخابی عمل پر اٹھائے گئے بعض سوالات خود پیپلز پارٹی کے لیے بھی وضاحت طلب بن جاتے ہیں۔

انتخابی عمل سے قبل مختلف سیاسی جائزوں اور زمینی حقائق میں بھی مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل دکھائی جا رہی تھی۔ اسی تاثر کے باعث متعدد بااثر امیدوار بھی ن لیگ میں شامل ہوئے، جس کا نتیجہ پہلے مرحلے میں اس کی نمایاں کامیابی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کے نزدیک مسلم لیگ (ن) اس وقت بلاول بھٹو کے بیانات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے اپنی انتخابی کامیابی کو ہی عوامی اعتماد کا ثبوت سمجھتے ہوئے خاموش رہنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قومی سیاست میں سخت بیانیہ وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن مسلسل ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے سے نہ صرف انتخابی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ قومی یکجہتی بھی کمزور پڑتی ہے۔ ریاست آخرکار عوام کے فیصلے کے مطابق منتخب نمائندوں کے ساتھ کام کرنے کی پابند ہوتی ہے، اس لیے ہر انتخابی شکست کو ریاستی سازش قرار دینا جمہوری روایت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

بلاول بھٹو کی جانب سے آزاد کشمیر کے حوالے سے ظاہر کی گئی تشویش اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی انتخابی شفافیت پر سوالات موجود ہیں تو ان کے حل کے لیے غیرجانبدار تحقیقات، قانونی فورمز اور انتخابی اصلاحات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام جماعتوں کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو عوامی اعتماد کو مضبوط اور جمہوری نظام کو مستحکم بنائیں۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ مرحلہ اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ سیاسی قیادت انتخابی مقابلے کو جمہوری روایات کے مطابق آگے بڑھاتی ہے یا سخت بیانیے کے ذریعے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھاتی ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں انتخابی اختلافات کو آئینی اور جمہوری حدود میں رکھتے ہوئے عوام کے فیصلے کا احترام کریں، کیونکہ مضبوط جمہوریت ہی مضبوط ریاست کی ضمانت ہے۔

Back to top button