حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی زمین صدرزرداری سے واپس مانگ لی

حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ان کی تنظیم نو اور اثاثوں کی منتقلی کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت پہلے ان کمپنیوں کی اراضی صدرِ پاکستان کے نام سے واپس متعلقہ ڈسکوز کے نام منتقل کی جائے گی، جس کے بعد منتخب اثاثے اور واجبات ایک خصوصی سپیشل پرپز وہیکل ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے۔ تاکہ نجکاری کے عمل کو زیادہ شفاف، قانونی پیچیدگیوں سے پاک اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے لیے ایک نیا فریم ورک تیار کر لیا ہے، جس کے تحت ان کمپنیوں کی تنظیم نو، اثاثوں کی منتقلی اور قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں ان کمپنیوں کی اراضی، جو ماضی میں نجکاری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے صدرِ پاکستان کے نام منتقل کی گئی تھی، دوبارہ متعلقہ ڈسکوز کے نام کی جائے گی۔ اس کے بعد منتخب اثاثے اور واجبات حکومت کی قائم کردہ خصوصی کمپنی، یعنی سپیشل پرپز وہیکل ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ نجکاری یا لیز کے دوران لین دین کو زیادہ مؤثر اور قانونی طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کی نجکاری کے لیے عالمی بینک نے تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ اثاثوں کی ملکیت کا ایسا ڈھانچہ بنایا جائے جس سے سرمایہ کاروں کو منتقلی کے عمل میں قانونی رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

حکومت اس سے قبل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری میں بھی ہولڈنگ کمپنی کا ماڈل استعمال کر چکی ہے، جہاں بعض اثاثے، واجبات اور مالی ذمہ داریاں الگ کمپنی میں منتقل کی گئی تھیں۔ اب یہی طریقہ کار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔

نجکاری کمیشن بورڈ نے مشیر نجکاری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کے منصوبوں کی منظوری کے لیے اپنی سفارشات کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو ارسال کر دی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق صرف وہ اثاثے اور واجبات نجکاری میں شامل کیے جائیں گے جو سرمایہ کاروں کے لیے موزوں ہوں، جبکہ دیگر اثاثے اور ذمہ داریاں خصوصی ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر دی جائیں گی۔

حکام کے مطابق نجکاری کے پہلے مرحلے میں شامل ان کمپنیوں کے 31 مارچ 2026 تک کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر اثاثوں اور واجبات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو واضح اور شفاف مالی تصویر فراہم کی جا سکے۔

نجکاری کمیشن بورڈ کو بتایا گیا کہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں نمایاں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسی سلسلے میں فیسکو کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اگست 2026، گیپکو کے لیے 21 اگست 2026 جبکہ آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی اجلاس میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے الگ الگ ٹرانزیکشن کمیٹیاں تشکیل دینے کی منظوری بھی دی گئی۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کو مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل جاری ہے۔

نجکاری کمیشن نے مالی سال 2024-25 سے 2026-27 کے دوران مکمل ہونے والے نجکاری منصوبوں کے آزادانہ آڈٹ کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایک فرم کی تقرری کی بھی منظوری دی ہے، جو ہر نجکاری معاہدے کا الگ آڈٹ کرے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کی نجکاری کا نیا فریم ورک اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو بہتر مالی قدر حاصل ہو، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور مستقبل میں بجلی کی تقسیم کے نظام میں کارکردگی، سرمایہ کاری اور انتظامی استعداد میں بہتری لائی جا سکے۔

Back to top button