عمران خان کا فوج مخالف انقلاب کا منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

 

 

 

جب مارچ 2022 میں صدارتی آمریت سے اُکتائے ہوئے سری لنکن نوجوانوں نے کولمبو میں صدر راجہ پکسا کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے ان کا اقتدار ختم کیا تو پاکستان میں بھی بانی تحریک انصاف عمران خان کے حامیوں نے ایسے ہی انقلاب کا خواب دیکھنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں نکلا۔ تاہم سری لنکا کے برعکس پاکستان میں 9 مئی کے حملوں نے پورا سیاسی نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ آج دو برس ہو گئے، فوج کے خلاف انقلاب کا خواب دیکھنے والے عمران خان جیل میں بند ہیں اور تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب دونوں بڑی سیاسی جماعتیں فیلڈ مارشل کے شانہ بشانہ کھڑی اتحادی حکومت چلا رہی ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی سری لنکا کی طرز کا انقلاب لانے کے چکر میں یہ اہم ترین بات بھول گئے کہ وہاں کے حکمرانوں کو فوج کی حمایت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی وہاں پر انقلاب فوج کے خلاف لایا گیا تھا۔ سری لنکا میں دراصل شخصی آمریت مسلط تھی کیونکہ وہاں ایک ہی خاندان 25 برس سے سیاست پر حاوی تھا۔ ایک بھائی یعنی گوٹا بایا راجہ پکسا صدر تھا، دوسرا بھائی مہندا راجہ پکسا وزیرِ اعظم تھا، تیسرا بھائی باسل راجہ پکسا وزیرِ خزانہ تھا۔ چوتھا بھائی چمل راجہ پکسا پہلے پارلیمنٹ کا سپیکر رہا، اور پھر وزیرِ زراعت بن گیا۔ جبکہ وزیرِ اعظم مہندا کا جواں سال بیٹا نمل راجہ پکسا کھیل اور امورِ نوجوانان کا وزیر اور خاندان کا ولی عہد تھا۔

 

تاہم جولائی 2022 میں سری لنکا کے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے بعد حکمران خاندان کا بھی سیاسی دیوالیہ نکل گیا اور حکمران پکسا خاندان کے سب بھائی، بیٹے اور بھتیجے ملک سے فرار ہو گئے۔ ایسے میں پاکستان میں بھی عمران خان جیسے موروثی سیاست کے دشمنوں کا سینہ چوڑا ہو گیا اور انہوں نے سری لنکا کی طرز کا انقلاب لانے کا منصوبہ بنا لیا جس کے روح رواں آئی ایس آئی  کے ناعاقبت اندیش سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور عمران خان تھے۔ پکسا خاندان کے زوال سے صرف ڈھائی ماہ پہلے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں برطرف ہونے والے عمران کے حامیوں نے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ پاکستان بھی سری لنکا بننے جا رہا ہے۔ مگر چشمِ فلک نے دیکھا کہ یہ پگڈنڈی براستہ 9 مئی کہاں کہاں سے گزر کے آج کہاں تک آن پہنچی ہے۔

 

آج صورتحال یہ ہے کہ 9 مئی 2023 کو انقلاب کا خواب دیکھنے اور دکھانے والے فیض حمید اور عمران خان  مکمل طور پر وڑ چکے ہیں۔

 

لیکن جب اگست 2024 میں جوان خون کے سیلابی غصے کی تاب نہ لاتے ہوئے 15 برس سے مطلق العنان شیخ حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ڈھاکہ سے انڈیا فرار ہوئیں تو پاکستانی میڈیا کو گویا کُھلی چھوٹ مل گئی کہ بنگلہ دیش کے حالات پر جیسے چاہو روشنی ڈالو اور ڈلواؤ۔ ہماری خاندانی حکمران اشرافیہ میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کا دل بھی کچھ نرم ہوا۔ یوں حسینہ واجد کے زوال کے بنیادی اسباب پر سنجیدہ گفتگو کا امکان پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات کی تیز رفتار بحالی کی مسرتی فضا میں کہیں گم ہو گیا۔

 

چنانچہ حال ہی میں جب نیپال میں تخت گرایا اور تاج اچھالا گیا تو عمران خان کے حامیوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں بھی اسی طرز کے انقلاب کا خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم پاکستانی میڈیا میں 9 ستمبر 2025 کے انقلاب نیپال کی جو تصویر ابھری ہے اسکا خلاصہ یہ ہے کہ کرپشن سے نجات، آزادی اظہار اور احتساب کا نعرہ ضرور لگنا چاہیے لیکن ریاستی اداروں اور ڈھانچے کو اس حد تک مفلوج نہیں کرنا چاہیے کہ معاملات کسی کے ہاتھ میں نہ رہیں۔ ویسے بھی جب سے موجودہ ہائبرڈ نظام نافذ ہوا ہے پاکستانی عوام کو یہی بتایا جا رہا ہے کہ امیر کی اطاعت لازمی ہے اور انقلاب کا خواب دیکھنا حرام ہے۔ ابھی تک تو ایسا ہی لگتا ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں ملوث مجرمان کو سزائیں ملنے کے بعد ان کے باقی ساتھیوں کو انقلاب کا خواب کبھی نہیں آئے گا۔

 

Back to top button