مریم نواز نے عمران خان کوعظیم لیڈرکیوں قرار دے دیا؟

ملکی سیاست میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے درمیان تناؤ اور سخت بیانات کا تبادلہ کوئی نئی بات نہیں۔ دونوں رہنما ایک دوسرے پر برسوں سے تنقید کرتے چلے آ رہے ہیں، جہاں عمران خان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کو ’بگڑی نواب زادی‘ جیسے القابات سے نوازتے رہے، وہیں مریم نواز بھی عمران خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے انھیں فتنہ خان، جھوٹوں کا بادشاہ، نقلی صادق و امین،نالائق اعظم اور تباہی خان سمیت مختلف ناموں سے پکارتی رہی ہیں
تاہم حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ایک پرانی ٹوئٹ گردش کر رہی ہے، جس میں مریم نواز نے 2012 میں عمران خان کی غیر متوقع طور پر کھل کر تعریف کی تھی۔ ایکس پر کی گئی اس ٹوئٹ میں مریم نواز نے عمران خان کو نہ صرف ایک عظیم کرکٹر اور بہترین کمنٹیٹر قرار دیا تھا بلکہ انہیں ’پاکستان کا واحد عظیم لیڈر‘ بھی کہا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے عمران خان کی دھلائی کے بعد ان کی یہی پرانی ٹوئٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اسے بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں اور مریم نواز کو یاد دلا رہے ہیں کہ وہ ماضی میں خود عمران خان کی مداح رہی ہیں جبکہ اب وہ اسی عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے نہیں تھکتیں۔
سوشل میڈیا پر اس وائرل ٹوئٹ کے بعد بعض حلقے اسے سیاسی مؤقف میں تبدیلی کا عکس قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ بیانیے کا بدلنا سیاست کا حصہ ہے
نوشین نامی صارف نے کہا کہ مریم نواز نے عمران خان کو پاکستان کا واحد عظیم لیڈر مانا ہوا ہے، یقین نہ ہو تو ان کی ٹوئٹ دیکھ لو۔بلال بشیر لکھتے ہیں کہ یاد ماضی عذاب ہے یا رب، ٹوئٹ دیکھیں جب مریم نواز بھی عمران خان کو گریٹ لیڈر مانتی تھیں۔ تاہم اب لگتا ہے ان کا بھی سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاست میں عمران خان اور مریم نواز کے درمیان جاری تناؤ اور لفظی محاذ آرائی اب محض سیاسی اختلاف نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی سیاست کی علامت بن چکا ہے جہاں دلائل کی جگہ بیانات اور الزامات نے لے لی ہے۔ دونوں رہنما برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ عوامی جلسوں اور سوشل میڈیا پر بھی تیز و تند زبان استعمال کرتے رہے ہیں، جس نے سیاسی ماحول کو مزید اشتعال انگیز بنا دیا ہے۔ تاہم یہی رہنما ماضی میں ایک دوسرے کی ستائش کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب عمران خان، جو خود کو “بدعنوان نظام کے خلاف عوامی تحریک” کا چہرہ قرار دیتے ہیں، مریم نواز کو بارہا "بگڑی نواب زادی” اور "وراثتی سیاست کی نمائندہ” قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق مریم نواز ایک ایسی سیاست کی علامت ہیں جو اقتدار کو خاندانی وراثت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب اب مریم نواز بھی عمران خان پر کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ وہ انہیں “فتنہ خان”، “سیاسی تباہی کا ذمہ دار” اور “جھوٹ کا امام” قرار دیتی نظر آتی ہیں۔ مریم نواز کے مطابق عمران خان نے سیاست میں شائستگی، برداشت اور مکالمے کی روایات کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی سیاست نے نوجوان نسل کو انتہاپسند سوچ کی طرف دھکیلا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی کو بڑھایا۔
عمران خان نے ایک بار پھر PTIکی سیاست کا جنازہ کیسے نکالا؟
سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان اور مریم نواز کی باہمی کشیدگی دراصل پاکستانی سیاست کی دو مختلف سمتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک طرف “انقلابی بیانیہ” جو نظام کو بدلنے کی بات کرتا ہے، اور دوسری طرف “استحکام کا بیانیہ” جو اداروں کے ساتھ چل کر سیاست کرنے کا حامی ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی شدت پسندی نے مکالمے کی گنجائش کم کر دی ہے اور عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بقول اگر دونوں رہنما اپنی توانائی ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے ملک کے حقیقی مسائل کے حل پر صرف کریں تو پاکستان کی سیاست زیادہ بامعنی ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال منظرنامہ یہ بتا رہا ہے کہ عمران خان اور مریم نواز کی لفظی جنگ ابھی ختم نہیں ہونے والی بلکہ جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ جنگ مزید شدت اختیار کرے گی۔
