امریکی ناکہ بندی کے دوران پاکستان نے ایران کیلئے تجارتی راہداری کیوں کھول دی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال نے نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کیا بلکہ خطے کے ممالک کو بھی نئے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کی جانب سے ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ ایک معمولی انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک اہم اسٹریٹیجک، معاشی اور سفارتی قدم کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران عملی طور پر ایک حد تک لینڈ لاک صورتحال کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے لیے بیرونی دنیا سے تجارت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے ایران کو اپنی بندرگاہوں گوادر اور کراچی کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایران نہ صرف اپنی مصنوعات تیسرے ممالک کو برآمد کر سکے گا بلکہ دیگر ممالک سے اشیا درآمد بھی کر سکے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان خود بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنا دراصل ایک اعتماد سازی کا اقدام ہے جس کے ذریعے پاکستان نے ایران کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

معاشی لحاظ سے یہ اقدام پاکستان کے لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے پاکستان کو نہ صرف فیس کی صورت میں آمدن حاصل ہوگی بلکہ اس کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ گوادر اور کراچی جیسے بندرگاہی مراکز خطے میں مزید فعال ہوں گے، جس سے پاکستان کی معیشت کو تقویت ملنے کا امکان ہے۔ مزید برآں، یہ فیصلہ پاکستان کے اس دیرینہ خواب کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے جس کے تحت وہ خود کو خطے کا تجارتی اور لاجسٹکس حب بنانا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ اس راہداری کے قیام سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بڑھے گی بلکہ پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے نئے راستے بھی میسر آئیں گے۔ ماضی میں افغانستان کے راستے تجارت اکثر سیکیورٹی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر متاثر ہوتی رہی ہے، لیکن ایران کے ذریعے ایک متبادل اور نسبتاً مستحکم راستہ دستیاب ہو سکتا ہے۔

سفارتی سطح پر بھی یہ اقدام نہایت حساس نوعیت کا ہے۔ ایک جانب پاکستان نے ایران کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا ہے تو دوسری جانب اسے امریکی پابندیوں اور عالمی قوانین کو بھی مدنظر رکھنا پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل امریکہ سمیت دیگر اہم فریقین کو اعتماد میں لیا ہے تاکہ کسی ممکنہ دباؤ یا پابندی سے بچا جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان براہِ راست ایران کے ساتھ تجارت نہیں بڑھا رہا بلکہ صرف راہداری فراہم کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جائز اقدام سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس فیصلے کو ایک محتاط مگر مؤثر سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں معاشی فائدہ، سفارتی توازن اور علاقائی اثر و رسوخ تینوں عناصر شامل ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر بھی اجاگر کرے گا۔

Back to top button