جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج، ججوں کے تبادلوں پر بڑا فیصلہ متوقع

اسلام آباد میں آج ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے عدالتی اور سیاسی نظام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے مجوزہ تبادلوں نے نہ صرف عدالتی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے بلکہ اس معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بعض ججوں کے تبادلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، مگر امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ووٹنگ کے وقت وہ حکومتی مؤقف کی حمایت کر سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جے سی پی میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے حکومت کے بعض ارکان کے ساتھ ایک جج کو سندھ ہائی کورٹ اور دوسرے کو بلوچستان ہائی کورٹ بھیجے جانے کی تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کو یقین ہے کہ ووٹنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے نمائندے بالآخر حکومت کا ساتھ دیں گے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق ججز کے تبادلوں کا معاملہ بظاہر انتظامی لگتا ہے، مگر اس کے اثرات عدالتی خودمختاری پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔ اگر ججوں کو ان کی مرضی یا سینیارٹی کے برعکس دور دراز بنچوں میں بھیجا جاتا ہے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔”

اسی دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے مبینہ طور پر چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا۔ اگرچہ اس خط کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئیں، لیکن اس نے اس معاملے کی سنجیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ کے اندر بھی اس فیصلے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔

مزید برآں، مجوزہ منصوبے کے تحت ججوں کو متعلقہ ہائیکورٹس کے مرکزی شہروں کے بجائے علاقائی بنچوں جیسے ملتان، بہاولپور اور بنوں میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کا مجوزہ منصوبہ یہ ہے کہ ججوں کو پہلے مختلف ہائی کورٹس میں منتقل کیا جائے گا اور بعد ازاں انہیں ان کورٹس کے مرکزی شہروں کے بجائے علاقائی بنچوں میں تعینات کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے لیے زیر غور ایک جج کو ممکنہ طور پر ملتان یا بہاولپور بنچ بھیجا جا سکتا ہے، جبکہ پشاور ہائی کورٹ منتقل کیے جانے والے ایک اور جج کی تعیناتی بنوں بنچ میں متوقع ہے۔ اسی طرز پر دیگر ججوں کو بھی، اگر یہ تبادلے نافذ ہو جاتے ہیں، دور دراز علاقائی بنچوں میں تعینات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو قانونی ماہرین ایک غیر معمولی قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف ججز کے کیریئر پر اثر پڑ سکتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی کے نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار اور اسے عدالتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ محض معمول کی کارروائی نہیں بلکہ عدالتی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر اعلیٰ ترین عدالتی عہدہ رکھنے والا فرد ہی اس فیصلے سے متفق نہیں، تو پھر اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس معاملے میں اصل کشمکش عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کے توازن کی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی ججز کے تبادلوں بارےاپنے تحفظات کے باوجود حکومتی مؤقف کی حمایت کرتی ہے تو یہ ایک بار پھر اس بات کو ثابت کرے گا کہ پاکستان میں بڑے فیصلے اکثر اصولوں سے زیادہ سیاسی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ آج کا اجلاس اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کیا عدلیہ اپنی خودمختاری برقرار رکھ پائے گی یا سیاسی دباؤ اس پر حاوی ہو جائے گا۔ بظاہر یہ ایک سادہ تبادلے کا معاملہ ہے، مگر درحقیقت یہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور ادارہ جاتی توازن کا امتحان ہے۔

Back to top button