لاہور: اربوں کے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار، ڈیڈ لائن قریب

لاہور میں اربوں کے ترقیاتی منصوبے سست روی کے شکار ہیں اور ڈیڈ لائن سر پر آ گئی ہے جب کہ کام ابھی نامکمل ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بروقت تکمیل کی یقین دہانیاں ضرور دی جا رہی ہیں مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی مکمل عکاسی نہیں کر رہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 36 ارب 54 کروڑ 70 لاکھ کے 118منصوبے 30 اپریل 2026 تک مکمل ہونا ہیں ،صرف 2 دن باقی مگر متعدد ترقیاتی کام تاحال ادھورے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق لاہور میں جاری لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام فیز ٹوکی تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن میں 2دن باقی رہ جانے کے باوجود متعدد کام ابھی تک نامکمل ہیں۔
علاوہ ازیں واہگہ زون ون اور ٹو، عزیز بھٹی زون اور علامہ اقبال زون میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے جاری ترقیاتی سرگرمیاں مکمل نہ ہو سکیں۔ واٹر سپلائی شعبے میں 295کلومیٹر کے ہدف میں سے 280 کلو میٹر لائنیں بچھائی جا چکی ہیں جبکہ 15کلومیٹر کا کام تاحال باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیوریج کے 280کلومیٹر منصوبے میں سے 278 کلومیٹر مکمل ہو چکے ہیں اور 2 کلومیٹر پر کام جاری ہے ۔گلیوں کی تعمیر کے بھی مکمل اہداف حاصل نہ ہو سکے ۔
دوسری جانب واسا کے تحت 1554 گلیوں میں سے 1537 مکمل کی جا سکیں، 17 ابھی باقی ہیں جبکہ نان واسا گلیوں کے 646 منصوبوں میں سے 643 مکمل اور 3 تاحال زیر تکمیل ہیں۔ مجموعی طور پر 2200گلی منصوبوں میں سے2180مکمل ہو چکے ہیں تاہم 20 منصوبے اب بھی ادھورے ہیں۔
3 کروڑ سے زائد ایرانی شہری جان فدا مہم میں رجسٹرڈ
شہری سہولیات کے بڑے منصوبہ کے آخری مرحلے میں سست روی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے بروقت تکمیل کی یقین دہانیاں ضرور دی جا رہی ہیں مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی مکمل عکاسی نہیں کر رہے۔
