عیدالاضحیٰ: قربانی والے بکرے مہنگےاور بیل سستے کیوں ہو گئے؟

عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ زور پکڑنے لگا ہے، تاہم اس سال مہنگائی کے اثرات اس مذہبی فریضے میں بھی واضح طور پر رکاوٹ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی شہری ایک طرف سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے پرجوش ہیں تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
رواں سال کے ابتدائی اندازوں کے مطابق بکرے کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ سال جو بکرا 50 سے 60 ہزار روپے میں دستیاب تھا، وہ اب 60 سے 70 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح بڑے، خوبصورت اور وزنی بکرے جنہیں شوقین افراد ترجیح دیتے ہیں، ان کی قیمت ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ کر ایک لاکھ 60 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔گزشتہ سال 25 کلو گوشت دینے والا ایک مناسب بکرا عموماً 50 سے 60 ہزار روپے کے درمیان دستیاب تھا، تاہم اس سال اسی وزن اور معیار کے بکرے کی قیمت بڑھ کر تقریباً 60 سے 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو واضح طور پر مہنگائی کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔اسی طرح بڑے، خوبصورت اور وزنی بکروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال ایسے بکروں کی قیمتیں ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچ جاتی تھیں، جبکہ اس سال ان کی قیمت تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار روپے تک بتائی جا رہی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف بڑھتی ہوئی لاگت بلکہ اعلیٰ معیار کے جانوروں کی محدود دستیابی اور بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
دوسری جانب بیل کی قیمتوں میں اس سال نسبتاً استحکام بلکہ کچھ کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ سال جو مناسب بیل تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک فروخت ہو رہا تھا، اس سال اس کی قیمت 2 لاکھ روپے سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ منڈیوں میں جانوروں کی زیادہ دستیابی اور خریداروں کی محدود تعداد ہے، خاص طور پر سرحدی بندش کے باعث جانوروں کی برآمد نہ ہونا بھی اس صورتحال کو متاثر کر رہا ہے۔
مزید برآں، بڑے شہروں میں اجتماعی قربانی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جہاں ایک بیل کے سات حصے کر کے فی حصہ 28 سے 32 ہزار روپے تک مقرر کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ متوسط طبقے کے لیے نسبتاً آسان اور قابل برداشت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری طرف، کیٹل فارمز پر پلے بڑھے اعلیٰ نسل کے بیلوں کی قیمتیں بدستور بلند ہیں، جو لاکھوں سے لے کر کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ جانور زیادہ تر شوق اور نمائش کے لیے خریدے جاتے ہیں، جن کی مانگ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوتی ہے۔ ان فارمز پر شوقیہ رکھے گئے بیلوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک ہے جبکہ کراچی میں چند بیلوں کی قیمتیں ایک کروڑ روپے سے زائد بھی ہوتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں ہر سال اضافہ ہی دیکھا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس سال قربانی کے جانوروں کی مارکیٹ دو مختلف رجحانات کی عکاسی کر رہی ہے۔ ایک طرف عام خریدار مہنگائی سے متاثر ہو کر محتاط فیصلے کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب شوقین افراد اب بھی مہنگے جانور خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں، خاص طور پر عید کے قریب، قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، جو طلب اور رسد کے توازن پر منحصر ہوگا۔
