کنڑ یونیورسٹی حملہ: افغانستان کا الزام، پاکستان کی تردید، کشیدگی مزیدبڑھ گئی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں حالیہ کنڑ واقعے نے دونوں ممالک کو نہ صرف سفارتی بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک جانب افغان حکام کی جانب سے پاکستان پر یونیورسٹی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے، تو دوسری جانب پاکستان نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہو گئی جب یہ واقعہ چین کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کے فوراً بعد پیش آیا، جس سے خطے میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا۔ اطلاعات کے مطابق افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے شمال مشرقی افغانستان میں ایک یونیورسٹی پر کئے جانے والے اس حملے میں متعدد شہری، جن میں طلبہ اور اساتذہ بھی شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ تعلیمی ادارے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ تاہم پاکستان کے سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان نے نہ تو کسی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی۔
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر ونگ نے اس خبر کو واضح طور پر ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات دراصل ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دہشت گرد گروہوں کی مبینہ حمایت کو چھپانا اور عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی عسکری کارروائیاں ہمیشہ انٹیلی جنس بنیادوں پر اور انتہائی درستگی کے ساتھ کی جاتی ہیں، اور اگر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے شواہد بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب افغان حکام کی جانب سے ان حملوں کو ’جنگی جرم‘ اور اشتعال انگیز اقدام قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران جھڑپوں میں اضافہ اور جانی نقصان اس کشیدگی کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اس تنازع کا ایک اہم پہلو اطلاعاتی جنگ بھی ہے، جہاں دونوں جانب سے بیانیے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ افغان میڈیا اور حکام کے دعوؤں کو پاکستان کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان ان الزامات کو بیرونی پروپیگنڈا عناصر سے جوڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف زمینی حقائق کو دھندلا رہی ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی حقیقت تک پہنچنا مشکل بنا رہی ہے۔
ادھر سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات اس کشیدگی کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ باجوڑ کے علاقے میں بھی سرحد پار سے گولے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں، اگرچہ کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم یہ واقعات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کنڑ واقعہ محض ایک الگ تھلگ حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑے اور پیچیدہ تنازع کا حصہ ہے، جس میں سفارت کاری، سیکیورٹی خدشات اور اطلاعاتی جنگ سب شامل ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
