پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے امکانات صفر کیوں ہو گئے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کے بعد یہ اہم نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ملک میں کسی سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق عالمی اور علاقائی حالات نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر کسی بڑی تبدیلی کے امکانات کو فی الحال پس منظر میں دھکیل دیا ہے، جس کے باعث موجودہ سیٹ اپ اب لمبے عرصے تک چلنے کا امکان ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اگرچہ ایک روایتی مذہبی رہنما ہیں، مگر نجی محافل میں ان کی گفتگو اور انداز ایسا ہوتا ہے کہ وہ سامعین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ دور کے اکثر سیاستدانوں میں پائی جانے والی خشک مزاجی کے برعکس مولانا میں وہ شگفتگی اور وضع داری موجود ہے جو ماضی کے بڑے سیاسی رہنماؤں مثلاً نوابزادہ نصر اللہ خان، قاضی حسین احمد، نواب اکبر بگٹی اور میر بلخ شیر مزاری کا خاصہ تھی۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق حالیہ دنوں میں لاہور میں ہونے والی ایک نشست کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے صحافیوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کی اور ماضی کی شائستہ سیاسی روایتوں کو تازہ کیا۔ اس ملاقات میں افغانستان سمیت خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مولانا نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کی افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ سرحدوں کی بندش معیشت اور تجارت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے، اور ملک اس وقت کسی دوطرفہ محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے بتایا کہ وہاں کی طالبان حکومت خود بھی شدت پسند گروہوں سے نالاں ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد افغان حکام کو احساس ہوا ہے کہ شدت پسند عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ داخلی سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے آبائی علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر تشویش ظاہر کی اور ریاستی پالیسیوں میں تضادات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اب بھی “گڈ” اور “بیڈ” طالبان کی تفریق موجود ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

 

خارجہ امور کے حوالے سے مولانا نے پاکستان کے متوازن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا غیر جانبدار اور ثالثی رویہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے وقتاً فوقتاً اعتماد میں لیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کے معاملے پر بھی مولانا نے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کے باوجود مدارس کو وعدے کے مطابق سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا جا رہا اور بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

 

اندرونی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کا مینڈیٹ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں متاثر ہوا۔ انہوں نے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ ممکنہ تعاون پر بھی بات کی، تاہم پیغامات کے تضاد کو رکاوٹ قرار دیا۔

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں بلکہ افراد کے نفسیاتی تجزیے میں بھی مہارت رکھتے ہیں، جو وقت کے ساتھ درست ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد اکثر حکمرانوں کی سوچ خود غرضی اور اقتدار کے گرد گھومنے لگتی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج، ججوں کے تبادلوں پر بڑا فیصلہ متوقع

مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد سہیل وڑائچ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ حالات میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ عالمی حالات اور داخلی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان کو فی الحال موجودہ سیاسی بندوبست کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہوگا، چاہے یہ صورتحال عمران خان کے حمایتیوں کو پسند ہو یا ناپسند۔

 

Back to top button