پنجاب اسمبلی : 18 سال سے کم عمر کی شادی قابل سزا جرم قرار، بل منظور

پنجاب میں 18 سال سے کم عمر کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا، صوبائی اسمبلی نے بل منظور کر لیا۔
پنجاب اسمبلی نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026ء کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت 18 سال سے کم عمر شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیتےہوئے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ بل وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا۔
چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل منظوری سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس پر طویل اور گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی،اجلاس 53 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔
اجلاس کے آغاز میں ہی سپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن ارکان کو پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان اس بحث میں الجھ گیا تو وقت ضائع ہوگا،طویل بحث کےبعد بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
بل کے مطابق کم عمری کا نکاح رجسٹر کرنےوالے کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ،کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنےوالے کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو بعض صورتوں میں زیادتی کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی، اسی طرح کم عمر بچوں کو دوسرے صوبے لے جاکر شادی کروانے یا سرپرستی میں کم عمری کی شادی کروانے والوں کےلیے بھی قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
قبل ازیں بل پر بحث کے دوران اپوزیشن رکن قاضی اکبر نے اعتراض اٹھایا جس پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کم عمری کی شادی کے خلاف دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ یہ عمل بچیوں کی صحت، تعلیم اور زندگی کےلیے خطرناک ہے اور اموات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے احتجاج کرتے ہوئے 18سال سے پہلے شادی کےلیے عدالت سے اجازت لینے کا مطالبہ کرتےہوئے کہاکہ اگر کسی کا بچہ یا بچی اٹھارہ سال سے پہلے شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ پہلے گناہ کرے،انہوں نے کہاکہ اٹھارہ سال سے پہلے شادی کرنے والا عدالت سے اجازت لے،بل کو اقدار سے اوپر نہ لےجائیں۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حکومتی رکن کے اعتراض پر کہاکہ چھوٹی بچیوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی شادیاں ہورہی ہیں،اسلامی شریعت کورٹ نے سندھ اسمبلی کے بل کی حوصلہ افزائی کی،ذہنی و جسمانی پختگی برابر ہونی چاہیے،کوئی کام کرنا ہے تو آئی ڈی کارڈ چاہیے لیکن اگر شادی کرنی ہے تو اجازت چاہیے،اگر کوئی نوجوان وقت سے پہلے جوان ہوگیا تو وہ شادی کا انتظار کرے نہ کہ وہ گناہ کرے۔
کنڑ یونیورسٹی حملہ: افغانستان کا الزام، پاکستان کی تردید، کشیدگی مزیدبڑھ گئی
عظمیٰ بخاری نے کہاکہ قتل کرےگا کوئی تو ونی چڑھے گی بچی،گناہ کو دھونے اور گناہ چھپانے کےلیے ایک بچی چاہیے،تو پھر آپ دس دس سال کی چار بیویوں کی اجازت دے دیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہاکہ قوانین کے ذریعے یا رواج کے ذریعے قربانیوں کو بند کردیں،کیا ہر مرد کی غلطی کی سزا بچی کو بھگتنی ہے۔
