پاکستان کا ماضی کا اتحادی UAEبھارت سے پیار کی پینگیں کیوں بڑھانے لگا؟

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی حالات نے متحدہ عرب امارات کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اماراتی سرزمین پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد جہاں یو اے ای نے ایران، پاکستان اور سعودی عرب سے دوری اختیار کر لی ہے وہیں متحدہ عرب اماعارت نے بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتے ہوئے اسرائیل اور مریکہ سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایرانی حملوں نے ابوظہبی کو یہ احساس دلایا کہ صرف تجارت اور معاشی روابط کے ذریعے علاقائی استحکام کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای اب ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، سٹریٹیجک خودمختاری اور عالمی سطح پر متنوع شراکت داریوں کے ذریعے خود کو "پہلے سے زیادہ مضبوط” بنانے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔

مبصرین کے بقول متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو طویل عرصے تک خود کو تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے مرکز کے طور پر پیش کرتا رہا، اب تیزی سے اپنی سکیورٹی اور دفاعی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تنازع اور اس دوران اماراتی سرزمین پر ہونے والے حملوں نے ابوظہبی کے اس تصور کو چیلنج کیا کہ اقتصادی باہمی انحصار خطے میں امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ ان واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ جدید دفاعی صلاحیتوں اور مضبوط سکیورٹی شراکت داریوں کے بغیر معاشی ترقی کا ماڈل غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اشارے دیے ہیں۔ اماراتی قیادت کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضے اب زیادہ فعال اور خودمختار پالیسی کے متقاضی ہیں۔یہ تبدیلی محض عسکری شعبے تک محدود نہیں۔ ابوظہبی نے علاقائی اتحادوں اور روایتی بلاکس پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔ انڈیا، یونان، قبرص، یوکرین اور ایتھوپیا جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یو اے ای مستقبل میں زیادہ متوازن اور متنوع سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہتا ہے۔اماراتی پالیسی ساز اس نئے رجحان کو "سٹریٹیجک خودمختاری” کا نام دیتے ہیں، جس کا مقصد بڑے اتحادیوں سے تعلقات ختم کرنا نہیں بلکہ اُنہیں اماراتی قومی مفادات کے مطابق ازسرِنو متعین کرنا ہے۔

اسی تناظر میں خلیجی اور عرب تنظیموں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خلیج تعاون کونسل اور دیگر علاقائی اداروں کی جنگی حالات میں محدود فعالیت نے اماراتی قیادت کو خود انحصاری کی طرف زیادہ توجہ دینے پر آمادہ کیا ہے۔اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کو بھی بعض تجزیہ کار اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام یو اے ای کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ توانائی، معیشت اور خارجہ امور میں زیادہ آزادانہ فیصلے کر سکے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بعض علاقائی معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ یمن، شام اور اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک قریبی شراکت دار ہیں، تاہم ابوظہبی اپنے علاقائی کردار کو زیادہ خودمختار انداز میں متعین کرنا چاہتا ہے۔پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی اس نئی علاقائی صف بندی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون امارات کی سٹریٹیجک سوچ پر اثرانداز ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ابوظہبی مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں وہ صرف ایک معاشی مرکز نہیں بلکہ ایک فعال علاقائی طاقت کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ "نئے امارات” کا تصور دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں قومی مفادات، دفاعی خودمختاری اور کثیرالجہتی شراکت داریوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا ابوظہبی اپنی اس نئی حکمتِ عملی کے ذریعے خطے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر پاتا ہے یا اسے اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں نئے توازن کی تلاش جاری رکھنا پڑتی ہے۔

Back to top button