ایران امریکہ امن معاہدہ نیتن یاہو کیلئے ڈراؤنا خواب کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ جہاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے یہ ایک سنگین سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ کئی دہائیوں سے ایران کو اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے والے نیتن یاہو اب ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس میں اُن کے سب سے مضبوط اتحادی امریکہ کی پالیسی اُن کے مؤقف سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ آنے والے اسرائیلی انتخابات کے تناظر میں یہ معاہدہ نہ صرف نیتن یاہو کی سکیورٹی حکمتِ عملی بلکہ اُن کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی ایک فیصلہ کن امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ اسرائیلی سیاست میں ایک نئے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی ایران کے خطرے کو اجاگر کرتے ہوئے اسرائیلی عوام کو سخت گیر سکیورٹی پالیسی کا یقین دلایا، اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں اُن کی دیرینہ حکمتِ عملی سوالات کی زد میں آ چکی ہے۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ واشنگٹن میں اُن کا اثر و رسوخ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت ہے، لیکن حالیہ پیش رفت نے اس تاثر کو کمزور کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی اقدامات پر کھلی تنقید اور ایران کے ساتھ سفارتی مفاہمت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کی ترجیحات میں تبدیلی آ رہی ہے۔اسرائیل کے اندر حزبِ اختلاف اس صورتحال کو نیتن یاہو کی سفارتی ناکامی قرار دے رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر اسرائیل امریکہ کی پالیسی سے اختلاف کرتا ہے تو اسے اپنے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ تصادم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جبکہ خاموشی اختیار کرنے کی صورت میں نیتن یاہو کو اپنی سیاسی ساکھ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد نیتن یاہو نے ایک جارحانہ سکیورٹی نظریہ اپنایا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کو درپیش خطرات کا پیشگی خاتمہ کرنا تھا۔ غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیاں اسی پالیسی کا حصہ تھیں۔ تاہم، طویل فوجی مہمات کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی حریفوں کو مکمل طور پر کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی مفاہمت نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دی ہے۔ اب نیتن یاہو کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں یا اپنی روایتی سخت گیر پالیسی پر قائم رہتے ہیں۔ دونوں راستے سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔آنے والے عام انتخابات بھی اس بحران کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی ووٹرز کے سامنے نیتن یاہو ہمیشہ خود کو "سلامتی کے محافظ” کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ بیانیہ پہلے جیسی قوت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر وہ اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرتے ہیں تو اُن کے حامی مایوس ہو سکتے ہیں، اور اگر وہ تصادم کا راستہ اپناتے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں پرانے اتحاد اور روایتی تصورات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے لیے اصل چیلنج صرف ایران نہیں، بلکہ اپنے سب سے اہم اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات کا نیا توازن قائم کرنا بھی ہے۔ یہی آزمائش اُن کے سیاسی مستقبل کا تعین کر سکتی ہے۔
