سندھ ہاؤس دوبارہ سیاسی جوڑ توڑکامرکزکیوں بن گیا؟

آزاد کشمیر میں وزیرِاعظم کی تبدیلی کی خبروں کے ساتھ ہی اسلام آباد میں اہم آئینی و قانونی اداروں کے درمیان واقع سندھ ہاؤس ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں اور پسِ پردہ جوڑ توڑ کا مرکز بن گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ چاہے بات سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کی ہو یا عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی، نئے سینیٹرز کے چناؤ کی یا پھر کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کی۔ ہر بڑے سیاسی معرکے میں سندھ ہاؤس کا نام کیوں سامنے آتا ہے؟

خیال رہے کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں واقع اُن سرکاری رہائش گاہوں میں سے ایک ہے جو مختلف صوبائی حکومتوں کے زیرِ انتظام ہیں ۔ ان میں پنجاب ہاؤس، خیبر پختونخوا ہاؤس، بلوچستان ہاؤس اور کشمیر ہاؤس بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد میں قائم ان عمارتوں کا بنیادی مقصد صوبائی حکام، وزرائے اعلیٰ، وزراء اور دیگر سرکاری مہمانوں کے قیام و طعام کی سہولت فراہم کرنا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہاؤسز اپنی اصل حیثیت سے نکل کر ملکی سیاست کے مراکز، مشاورت گاہوں اور اقتدار کے پسِ پردہ فیصلوں کے اہم اڈوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں قائم اس صوبائی ہاؤسز کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان پر وفاقی حکومت یا اس کے کسی ادارے کی براہِ راست مداخلت کا اختیار نہیں، جس کے باعث یہ ہاؤسز سیاسی ملاقاتوں، خفیہ مشاورتوں اور اقتدار کے سود و زیاں سے جڑے فیصلوں کے لیے محفوظ اور پرکشش مقام سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لئے ماضی میں بھی یہ ہاؤسز ہمیشہ کسی نہ کسی سیاسی سرگرمی یا بحران کے وقت توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں۔

تاہم اسلام آباد میں موجود سندھ ہاؤس کی تاریخ زیادہ متنازع رہی ہے۔ اسلام آباد کے اسی حساس علاقے میں واقع سندھ ہاؤس کو 1973-74 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد صوبائی وزراء اور افسران کو وفاقی دارالحکومت میں قیام کے دوران سہولت فراہم کرنا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ عمارت سیاسی مشاورت، خفیہ ملاقاتوں اور اقتدار کی تبدیلی کا مرکز بن گئی۔

عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے موقعے پر سندھ ہاؤس نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر طوفان برپا کیا۔ تحریکِ انصاف کے منحرف اراکینِ قومی اسمبلی کو اسی عمارت میں پناہ دی گئی، جس کے بعد یہ وفاقی حکومت اور عوامی تنقید کا نشانہ بن گیا۔سوشل میڈیا پر اس کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور سندھ ہاؤس کو وفاداریاں تبدیل کرنے والے اراکین کا ٹھکانہ قرار دیا گیا۔ اس وقت کی تحریک انصاف حکومت نے یہاں کارروائی کا فیصلہ کیا لیکن جب منحرف اراکین میڈیا کے سامنے آئے اور اپنا موقف دیا تو ممکنہ آپریشن روک دیا گیا۔تحریک انصاف کے کارکنان نے سندھ ہاؤس پر حملہ بھی کیا اور اس کے گیٹ کو نقصان پہنچا جس پر ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوئے اور دو ارکان اسمبلی کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اب ایک بار پھر سندھ ہاؤس کا ماحول سیاسی سرگرمیوں سے گونج رہا ہے۔ کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تیاری کے دوران تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان کو اسی عمارت میں ٹھہرایا گیا ہے۔ان کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں اور عشائیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے اراکین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو تحریکِ عدم اعتماد میں حصہ لینے اور پیپلز پارٹی کی ممکنہ نئی حکومت کے قیام میں تعاون پر آمادہ ہیں۔ یوں سندھ ہاؤس ایک مرتبہ پھر اقتدار کی کشمکش میں منحرف ارکان کا مسکن بن چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق ججز کالونی سے متصل مختلف بلاکس،تقریباً 30 کمروں، وسیع لابیز، ہالز، لانز اور ایک جامع مسجد پر مشتمل 25 ایکڑ پر پھیلاسندھ ہاؤس پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار میں نہ صرف رہائش گاہ بلکہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پریس کانفرنسیں، عشائیے اور حکمت عملی کے اجلاس معمول کی بات سمجھے جاتے رہے ہیں۔پرویز مشرف کے دور میں سندھ ہاؤس کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا، تاہم 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسے دوبارہ کھولا گیا اور جدید طرز پر اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ آج بھی سندھ ہاؤس نہ صرف صوبائی نمائندوں کی قیام گاہ ہے بلکہ اسلام آباد کے سیاسی منظرنامے میں ایک فعال مقام کے طور پر موجود ہے جہاں کبھی فیصلے خفیہ طور پر ہوتے ہیں اور کبھی اقتدار کے نئے کھیل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں صرف سندھ ہاؤس ہی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز نہیں رہا 90 کی دہائی میں جب نواز شریف قائدِ حزبِ اختلاف تھے تو پنجاب ہاؤس پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہاں مختلف اجلاس منعقد ہوتے تھے، پارٹی حکمتِ عملی طے کی جاتی اور بعض اوقات اہم سیاسی فیصلے بھی وہیں سے سامنے آتے تھے۔ بعد ازاں پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک کے دوران پنجاب حکومت کے مخالفانہ ردعمل کی منصوبہ بندی کے لیے بھی یہی عمارت استعمال ہوتی رہی ہے۔

اسی طرح کے پی ہاؤس نے بھی مختلف ادوار میں سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں یہ عمارت پارٹی کی حکمتِ عملی کے لیے مرکزی جگہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جب خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وزراء، اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما اسلام آباد آتے تو ان کی بیشتر ملاقاتیں اور مشاورتیں کے پی ہاؤس ہی میں ہوتی تھیں۔ یہیں سےاحتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور جلسوں بارے حکمت عملی طے کی جاتی رہی ہے۔ 2014 کے دھرنے کے دوران متعدد اجلاس بھی اسی عمارت میں ہوئے جہاں سے کارکنوں کے لیے ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔ 2024 میں جب وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی بڑھی تو وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے کے پی ہاؤس میں کارروائی کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور خود بھی وہاں موجود تھے، تاہم وہ گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس واقعے کے بعد کے پی ہاؤس ایک مرتبہ پھر سیاسی تنازعے کا مرکز بن گیا تھا۔

Back to top button