گنڈاپور طالبان دہشتگردوں سے مذاکرات کا ڈھول کیوں پیٹنے لگے؟

 

 

 

ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ کارروائیوں کےباوجود گنڈاپور سرکار نے ٹی ٹی پی سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری فوجی آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے ایک بار پھر دہشتگردوں سے مذاکرات کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا عندیہ دیتے ہوئے افغان حکومت کی ثالثی میں تحریک طالبان سے بات چیت آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق عوام آج تک عمران خان کے دور اقتدار میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان کی دوبارہ آباد کاری کے فیصلے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اب جبکہ سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر دہشتگرد تنظیموں کی کمر توڑنے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں خیبرپختونخوا حکومت نے دوبارہ طالبان سے مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔

 

ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی اس عمرانی پالیسی کو اپنانے پر بضد ہے جس کا عوام آج تک خمیازہ بھگت رہی ہے، ماضی میں عمران خان کے حکم پر طالبان سے مذاکرات اور ان کی پاکستان میں دوبارہ آباد کے فیصلے نے دہشتگردوں کو نئی زندگی بخشی اور ملک میں امن کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت "امن مذاکرات” کے نام پر دہشتگردوں کو ریلیف دینے کے مشن پر گامزن نظر آتی ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور وفاق کو بائی پاس کرتے ہوئے افغان حکومت سے براہِ راست بات کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے بار بار انتباہ کے باوجود گنڈاپور سرکار اپنی "صوبائی ڈپلومیسی” چلانے پر تلی دکھائی دیتی ہے۔ جرگوں اور نمائشی وفود کی تیاری بارے دعوے کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے خیبرپختونخوا حکومت ہی پورے خطے کے امن کی ضامن ہے۔

 

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس میں کون شامل ہے اور اس جرگے کی کس ایجنڈے کے تحت کس سے کیا بات ہوگی۔ مبصرین کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کے تمام اقدامات اور اعلانات ایک نمائشی کھیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ افغان طالبان اپنے ہی ملک میں آزاد دہشتگرد گروپوں پر کنٹرول نہیں رکھتے، تو بھلا خیبرپختونخوا کا ایک جرگہ انہیں ٹی ٹی پی کو مکمل پٹہ ڈالنے پر کیسے مجبور کر سکتا ہے۔

 

ناقدین کے بقول جب سیکیورٹی فورسز متعدد جوانوں کی قربانیاں دیتے ہوئے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کر رہی ہیں، ایسے میں خیبرپختوانخوا حکومت کا مذاکرات کی بات کرنا دہشتگردوں کو ریلیف دینے کے مترادف ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کو دوبارہ ریلیف کی فراہمی کیلئے کیوں کوشاں ہے؟ کیا یہ سب عمران خان کی پرانی "طالبان فریندلی پالیسی” کا تسلسل ہے؟ یا پھر صوبائی حکومت محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ عمائدین کا ایک جرگہ افغانستان جائے گا اور تمام مسائل کا سب حل نکال لے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی پر قابو پانے کی پوزیشن میں نہیں، بلکہ بعض علاقوں میں وہ خود ان کے رحم و کرم پر ہیں۔ ویسے بھی وفاقی حکومت کی تائیدکے بغیر صوبائی حکومت کی یہ ساری مشق بے سود نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے علی امین کے بیانات محض نمائشی ہیں، عملی طور پر کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ سچ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس نہ اختیار ہے نہ وسائل۔ ان کے پاس دہشتگردوں کو دینے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں ایسی صورت میں ان کی حکومت سے جرگہ افغانستان جا کر کیا کرے گا۔ یہ سب محض ڈرامہ ہے جو امن کے نام پر سیاست چمکانے کے لیے رچایا جا رہا ہے۔ تاہم ایسی احمقانہ اقدامات کی وجہ سے عوام مزید عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور دہشتگردوں کو یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان ابھی بھی مذاکرات کے جال میں پھنسنے کو تیار ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے بقول علی امین گنڈاپور اور ان کی ٹیم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دہشتگرد عناصر پیار کی زبان سمجھنے پر بالکل آمادہ نہیں ہیں وہ مذاکراتی عمل کو حکومت کی کمزوری سمجھتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ خطے میں امن مذاکرات سے نہیں، بلکہ ٹھوس اور بے رحم کارروائیوں اور طالبان کی ٹھکائی سے ہی آئے گا۔

 

Back to top button