طالبان امیر نے ٹی ٹی پی کو کھلی وارننگ کیوں دی؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان کی قیادت کی جانب سے یہ پیغام سامنے آیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پاکستان کے اندر حملے روکنے کی وارننگ دی ہے، لیکن اسلام آباد اس پیغام کو کافی نہیں سمجھ رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ بیانات اور یقین دہانیوں سے زیادہ اہم عملی اقدامات اور زمینی نتائج ہوتے ہیں، جو ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان پاکستان کو یہ یقین دلانے کی کوشش میں کہ وہ اسلام آباد کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، طالبان حکومت نے غیر رسمی طور پر پاکستان کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی) کو وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے روک دے ورنہ وہ طالبان کی وفاداری سے محروم ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق طالبان حکومت نے غیر رسمی سفارتی ذرائع سے پاکستان کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ کابل حکومت سیکیورٹی خدشات کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی نے پاکستان میں حملے جاری رکھے تو وہ طالبان کی حمایت اور وفاداری سے محروم ہو سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر یہ ایک اہم پیش رفت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ماضی میں افغان طالبان پر بارہا یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی اور سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے پیغامات صرف اس وقت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کے ساتھ قابلِ تصدیق اقدامات بھی موجود ہوں۔

سیاسی اور سیکیورٹی مبصرین کے مطابق اصل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری طرف طالبان حکومت مسلسل اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ لیکن زمینی حقائق اور مسلسل ہونے والے حملے اس دعوے کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی ٹی ٹی پی پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں تو پھر پاکستان میں حملوں کی تعداد میں واضح کمی آنی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف زبانی وارننگ یا سفارتی پیغامات اس وقت تک بے معنی رہیں گے جب تک ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت، تربیتی مراکز، مالی وسائل اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی جاتی۔

بعض علاقائی امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس وقت شدید بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ عالمی سطح پر سفارتی قبولیت حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان، چین اور وسط ایشیائی ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات بھی اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں طالبان کی جانب سے ایسے پیغامات کو ایک سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کے تحفظات کو وقتی طور پر کم کرنا ہو سکتا ہے۔

ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خطرات پر واضح تشویش ظاہر کی۔ اس اعلامیے میں کابل حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق چین کا کھل کر اس مسئلے پر بات کرنا طالبان حکومت کے لیے ایک اہم پیغام ہے، کیونکہ بیجنگ افغانستان میں استحکام کو اپنی علاقائی اور اقتصادی حکمت عملی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اگر طالبان چین اور پاکستان دونوں کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی بین الاقوامی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری طرف کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان مکمل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی اور بداعتمادی کے باوجود دونوں فریق سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ارومچی میں ہونے والے مذاکرات اور حالیہ رابطے اسی کوشش کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔تاہم زمینی حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساز قیادت اب صرف وعدوں پر انحصار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حقیقی پیش رفت کا اندازہ صرف عملی نتائج سے لگایا جائے گا، نہ کہ بیانات سے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر طالبان حکومت واقعی ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات کرتی ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا نیا باب کھل سکتا ہے۔ لیکن اگر حملے جاری رہے اور یقین دہانیاں محض سفارتی بیانات تک محدود رہیں تو بداعتمادی مزید گہری ہو گی، جس کے اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ہبت اللہ اخوندزادہ کی مبینہ وارننگ ایک حقیقی پالیسی تبدیلی کا آغاز ہے یا صرف بڑھتے ہوئے علاقائی دباؤ کو کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش۔ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں زمینی صورتحال خودواضح کر دے گی۔

Back to top button