امریکہ نےپاکستانی کی گرفتاری پر بھاری انعام کیوں رکھا؟

امریکہ نے خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کا اعلان کردیا ہے۔ فہیم پر امریکی حکام کو ماموں بنا کر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کا ایک بڑا آن لائن نیٹ ورک چلانے اور امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر یعنی تقریباً 35 ارب پاکستانی روپے، کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

امریکی حکام کے مطابق فہیم اکرم نے LabelsBank.com نامی ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ملزم اس وقت امریکہ میں موجود ہے یا کارروائی سے بچنے کے لیے پاکستان فرار ہوچکا ہے۔
امریکی اٹارنی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے فہیم اکرم کی ویب سائٹ بند کردی ہے اور اب اس کی گرفتاری کے لیے عوام سے مدد طلب کی جارہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس فہیم اکرم کے بارے میں معلومات ہیں یا وہ جانتا ہے کہ ملزم اس وقت کہاں موجود ہے تو امریکی پوسٹل انسپیکٹرز سے رابطہ کیا جائے۔

امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کی جانب سے جاری اشتہار میں شہریوں کو واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فہیم اکرم کو خود گرفتار کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اشتہار کے مطابق ملزم کی گرفتاری اور سزا تک پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔ امریکی حکام نے فہیم اکرم کو مطلوب قرار دیتے ہوئے اس کی تلاش کے لیے معلومات حاصل کرنے کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے پاکستان کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ فہیم اکرم نے LabelsBank.com کے ذریعے 51 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے، جن میں سے ہر لیبل تقریباً دو ڈالر میں فراہم کیا جاتا تھا، جبکہ 5 ہزار 200 سے زائد افراد نے اس ویب سائٹ سے جعلی لیبل خریدے۔

امریکی حکام کے مطابق LabelsBank.com امریکی پوسٹل سروس کا مجاز فروخت کنندہ نہیں تھا، تاہم ویب سائٹ پر انتہائی کم قیمت پر ایسے شپنگ لیبل دستیاب تھے جنہیں پارسل بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ صارفین تقریباً دو ڈالر ادا کرکے ایسا لیبل حاصل کرلیتے تھے، جبکہ قانونی طور پر پارسل کے وزن، حجم اور منزل کے مطابق امریکی پوسٹل سروس کو اس سے کہیں زیادہ ڈاک فیس ادا کرنا ضروری ہوتی تھی۔ یوں صارفین اصل ڈاک اخراجات سے بچ جاتے تھے اور اس فرق کا نقصان امریکی پوسٹل سروس کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔

تفتیش کے مطابق فراڈ کا طریقہ بظاہر سادہ تھا لیکن بڑے پیمانے پر استعمال ہونے کے باعث اس کے مالی اثرات غیر معمولی ہوگئے۔ صارفین ویب سائٹ سے جعلی لیبل خریدتے اور ان کے ذریعے اپنے پارسل امریکی پوسٹل سروس کے ذریعے بھیج دیتے تھے، جس سے انہیں ہر پارسل پر قانونی ڈاک فیس کے مقابلے میں نمایاں بچت حاصل ہوتی۔ بظاہر چند ڈالر کی یہ بچت جب لاکھوں پارسلز تک پہنچی تو امریکی پوسٹل سروس کو مجموعی طور پر 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

امریکی حکام نے فہیم اکرم کے خلاف فردِ جرم کے ساتھ اس نیٹ ورک کے بنیادی آن لائن پلیٹ فارم کے خلاف بھی کارروائی کی اور عدالت سے LabelsBank.com کا ڈومین ضبط کرنے اور ویب سائٹ بند کرنے کا حکم حاصل کیا۔ ویب سائٹ اب امریکی حکام کی تحویل میں ہے، جبکہ فہیم اکرم کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ امریکی حکام نے ایک مرتبہ پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ ملزم کے بارے میں کسی بھی قابلِ اعتماد اطلاع کی صورت میں براہِ راست پوسٹل انسپیکٹرز سے رابطہ کیا جائے اور اسے خود گرفتار کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

Back to top button