اپوزیشن سے مذاکرات سہیل آفریدی کی وجہ سے ناکام ہوئے : طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے اپوزیشن سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آخری وقت کی شرائط پر ڈال دی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا،تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت میں شرائط مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنیں۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ مذاکرات میں شامل اپوزیشن رہنما اپنی پارٹی اور سوشل میڈیا کی تنقید سے متاثر ہوتے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے روز وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا،جس پر ابتدائی طور پر اتفاق ہوا اور دہشت گردی سے متعلق نکات پر بات چیت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں شامل بعض افراد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کرکے بات کی،جس کےبعد اگلے روز اپوزیشن کی ٹیم واپس آئی۔ پہلے دن مذاکرات سے قبل وزیر داخلہ نے فون کرکے کہا تھاکہ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک نمائندہ مذاکرات میں شامل کیا جائے،تاہم مذاکرات کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ان پر اعتماد ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے روز کی بات چیت کے بعد اپوزیشن رہنما پشاور گئے اور رات کو یقین دہانی کرائی گئی کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق کرتی ہے۔اس کےبعد وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کو جتنی سیاسی سپیس دی جاسکتی ہے، دی جائے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم نے واضح کیاکہ ملک کی بہتری چاہیے،خواہ اس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ بھی ہوتو کوئی مسئلہ نہیں،تاہم دہشت گردی کے معاملے پر 100 فیصد تعاون چاہیے۔مذاکرات کے اگلےدن دہشت گردی کے معاملے پر مکمل اتفاق پایاجانا تھا۔
وزیر مملکت نے کہاکہ دوسرے روز پہلے ڈرافٹ میں تمام سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا، اس ڈرافٹ میں عمران خان کی صحت سمیت دیگر ایشوز بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں اسے میثاق جمہوریت ٹو کہوں گا،یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا۔وزیراعظم اور آرمی چیف روز جنازوں کو کندھا دیتےہیں،یہ بڑا مشکل کام ہے۔ روز جنازے ہم اٹھارہے ہیں اور جنگ عوام کی لڑرہے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پہلا ڈرافٹ رات 9 بجے تیار ہوا،جسے وزیر داخلہ صدر مملکت کے پاس لےکر گئے۔مذاکرات کے آخری لمحات میں مسلسل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رابطےمیں تھے اور اس وقت اپوزیشن کے مذاکرات کار ہم سے آنکھیں نہیں ملا پارہے تھے۔
انہوں نے سوال کیاکہ کیا عمران خان کا بنایا ہوا نیشنل ایکشن پلان پختونوں کےخلاف تھا؟ کیا نیشنل ایکشن پلان عمران خان نے خود نہیں بنایاتھا؟
طلال چوہدری نے کہاکہ کیا یہ ممکن ہےکہ جہاں پاکستان کا کوئی فرقہ یا سیاسی جماعت جلسہ نہ کرسکے،اس علاقے میں آپ پھررہے ہوں اور کوئی آپ پر پتھر بھی نہ مارے؟کوئی تو چیز مشترک ہے آپ دونوں میں۔
انہوں نے کہاکہ وہاں سول سوسائٹی کا کوئی فرد محفوظ نہیں،سوائے پی ٹی آئی کے۔ انہوں نے سوال اٹھایاکہ کیا یہ آپ کا ایک مسلح ونگ ہے؟کیوں وہ آپ کو پتھر بھی نہیں مارتے اور باقیوں پر خودکش حملے کرتےہیں؟
طلال چوہدری نے سوال کیاکہ کیا آپ چاہتے ہیں ہماری سکیورٹی فورسز ڈرونز استعمال نہ کریں؟
وزیر مملکت نے کہاکہ بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے لیکن مشروط طور پر۔آج پشاور میں لانگ مارچ کی وجہ سے امتحانات مؤخر کردیے گئےہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک ایسے معاملات ختم نہیں ہوتے اور وزیر داخلہ نے جو ٹویٹ کی تھی اس پر 100 فیصد عمل نہیں کیاجاتا،بات چیت نہیں ہوسکتی۔ طلال چوہدری نے کہاکہ اس دفعہ ان کی جو غلط فہمی نکلےگی،اس کے بعد ملک میں مارچ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ریاست ماں ہوتی ہے لیکن ریاست کو باپ کا کردار بھی ادا کرنا پڑتا ہے، جب بچے ماں کو نقصان پہنچانا شروع کریں تو ریاست باپ کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ ٹی ایل پی ہو یا کوئی اور اب کوئی نان سینس نہیں ہوگی۔

Back to top button