نواز شریف اور عمران خان دوست سے دشمن کیسے بنے؟

جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ملکی سیاست میں ایک دوسرے کے بدترین مخالفین سمجھے جانے والے میاں نواز شریف اور عمران خان ماضی میں دوست ہوا کرتے تھے۔ ان دونوں کی باقاعدہ شناسائی 1970 کی دہائی کے آخر میں لاہور جمخانہ کرکٹ کلب میں ہوئی، جہاں عمران خان تب قومی سطح کے ابھرتے ہوئے کرکٹر تھے جبکہ نواز شریف کاروبار کے ساتھ ساتھ کلب کرکٹ میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ عمران خان نے اپنی خودنوشت میں بھی لکھا ہے کہ پہلی ملاقات میں نواز شریف انکو سیاست سے زیادہ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والے ایک عام نوجوان لگے تھے۔
1980 کی دہائی میں دونوں کی شناسائی مزید گہری ہوئی اور نواز شریف کے سیاسی عروج کے باوجود کرکٹ ان دونوں کے رابطے کا اہم ذریعہ بنی رہی۔ نواز شریف پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ اور پھر وزیر اعلیٰ بنے جبکہ عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بن کر دنیا کے ممتاز ترین کرکٹرز میں شمار ہونے لگے۔ اس دور میں نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ذاتی مراسم رہے۔ دونوں کے تعلقات محض رسمی شناسائی تک محدود نہیں تھے۔ نواز شریف کی کرکٹ سے دلچسپی اور عمران خان کے ساتھ ان کے روابط تب بھی برقرار رہے جب نواز شریف عملی سیاست میں تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔
نواز شریف اور عمران کے تعلقات کا ایک اہم پہلو عمران کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا منصوبہ تھا۔ 1991 میں ہسپتال کے سنگ بنیاد کی تقریب میں نواز شریف شریک ہوئے جبکہ ہسپتال کے لیے زمین کے حصول میں بھی ان کی حکومت نے عمران خان کی مدد کی۔ یہی وہ دور تھا جب دونوں کے درمیان سیاسی اختلاف کا کوئی نمایاں تصور موجود نہیں تھا اور نواز شریف عمران خان کو ایک ایسے مقبول قومی شخصیت کے طور پر دیکھتے تھے جسے وہ مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔1992 میں پاکستان کی ورلڈ کپ فتح کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان کے بارے میں نواز شریف کا یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ وہ انہیں سیاست میں آنے کی پیشکش پہلے ہی کر چکے تھے۔
عمران خان نے بالآخر 1996 میں تحریک انصاف قائم کر کے سیاست میں قدم رکھا تو نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ عمران کے مطابق نواز شریف نے پہلے انہیں اپنی جماعت میں دوسری اہم پوزیشن دینے کی پیشکش کی اور بعد میں قومی اسمبلی کی تقریباً 20 نشستوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کی تجویز بھی دی۔ یہ پیشکش عمران نے مسترد کر دی۔ عمران کے مطابق اس وقت تک وہ نواز شریف کو ایک دوست کی حیثیت سے جانتے تھے لیکن سیاست میں آنے کے بعد انہوں نے نواز شریف کو بھی کرپشن کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یوں پہلی مرتبہ دونوں کے درمیان ذاتی تعلق کے مقابلے میں سیاسی اختلاف نمایاں ہونے لگا۔
اس دوران 1997 کے الیکشن میں ان کی جماعت بری طرح ناکام ہوئی جبکہ نواز شریف بھاری اکثریت کے ساتھ دوسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے۔ تاہم 1999 میں نواز شریف کی چھٹی اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے قیام کے بعد دونوں ایک بار پھر ایک مشترکہ سیاسی سمت میں آ گئے۔ نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا کر جلا وطن کر دیا گیا۔ ابتدا میں عمران خان پرویز مشرف کے حامیوں میں شمار ہوئے، لیکن بعد میں ان کے راستے بھی فوجی حکومت سے الگ ہوگئے۔ 2007 میں عمران خان اور نواز شریف لندن میں دوبارہ قریب آئے اور دونوں نے پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف مشترکہ سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس مرحلے پر وہ ایک بار پھر سیاسی حریف نہیں بلکہ ایک ہی فوجی حکومت کے مخالف اتحادی تھے۔ تاہم یہ اتحاد بھی مستقل ثابت نہ ہوا۔ 2008 کے انتخابات کے بائیکاٹ کے معاملے پر عمران اور نواز شریف کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور عمران نے نواز شریف پر مشترکہ فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔
اسکے بعد دونوں کی سیاست الگ سمتوں میں آگے بڑھتی رہی۔ 2011 میں پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو ہٹا کر عمران کو وزیراعظم بنانے کا منصوبہ شروع کر دیا تھا۔ اس دوران تحریک انصاف کے مینار پاکستان پر ہونے والے بڑے جلسے نے عمران کو قومی سیاست میں ایک سنجیدہ قوت بنا دیا۔ ابتدا میں عمران کی تنقید کا بڑا ہدف پیپلز پارٹی تھی اور نواز شریف کے ساتھ ان کے تعلقات میں مکمل محاذ آرائی پیدا نہیں ہوئی تھی، لیکن جیسے جیسے تحریک انصاف مضبوط ہوئی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی مقابلہ بھی ناگزیر ہوتا گیا۔
2013 کے عام انتخابات نے دونوں کو براہ راست اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے جبکہ عمران خان نے انتخابی دھاندلی کے خلاف شدید احتجاجی مہم شروع کی۔ اس مرحلے پر نواز شریف نے عمران خان کی عیادت بھی کی اور بعد ازاں بنی گالہ جا کر ان سے ملاقات کی، لیکن سیاسی اختلاف ختم نہ ہوسکا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تصادم مسلسل بڑھتا گیا۔ عمران خان کے احتجاج، دھرنے، پاناما کیس اور نواز شریف کی نااہلی کے واقعات نے دونوں کے درمیان موجود سابقہ ذاتی تعلق کو تقریباً مکمل طور پر سیاسی دشمنی میں تبدیل کر دیا۔
2018 کے انتخابات تک صورتحال یکسر بدل چکی تھی۔ نواز شریف احتساب مقدمات میں سزا کے بعد جیل میں تھے جبکہ عمران خان پہلی مرتبہ وزیر اعظم بن کر اسی وزیر اعظم ہاؤس میں پہنچے جہاں 1992 میں نواز شریف نے انہیں سیاست میں آنے کی پیشکش کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ لیکن اقتدار میں عمران خان کی آمد کے باوجود نواز شریف اور عمران خان کے درمیان کشمکش ختم نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس دونوں کے سیاسی بیانیے مزید سخت ہوتے گئے۔ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران ہی نواز شریف کو علاج کی خاطر جیل سے نکال کر لندن بھجوا دیا گیا۔
ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت کو بھی اپنی حکومت ختم کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا، جبکہ نواز شریف بھی اپنی سیاسی بے دخلی کے لیے اسٹیبلشمنٹ پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
رینجرز اور پولیس جوان لانگ مارچ کو کیسے کاؤنٹر کریں گے؟
یوں نواز شریف اور عمران خان کا سفر پاکستانی سیاست میں ایک غیر معمولی تضاد کی تصویر پیش کرتا ہے۔ دونوں کا آغاز کرکٹ کے میدان میں شناسائی سے ہوا، ذاتی تعلق قائم ہوا، نواز شریف نے عمران خان کو سیاست میں لانے کی ایک سے زیادہ کوششیں کیں، دونوں نے ایک فوجی حکمران کے خلاف مل کر سیاسی جدوجہد بھی کی، مگر بالآخر اقتدار کی سیاست نے انہیں ایک دوسرے کا سب سے بڑا سیاسی حریف بنا دیا۔ آج دونوں کے درمیان اختلاف محض شخصی یا جماعتی مخالفت نہیں بلکہ پاکستان میں اقتدار، سیاسی مقبولیت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے بارے میں دو مختلف سیاسی راستوں کی کشمکش بن چکا ہے۔ ایک زمانے میں نواز شریف جس عمران خان کو اپنے ساتھ رکھنے کی خواہش رکھتے تھے، وہی عمران خان بعد میں نواز شریف کے اقتدار اور سیاسی ورثے کو چیلنج کرنے والی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گیا۔
