تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک پر ہی روکنے کا فیصلہ

سکیورٹی حکام نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اسے اٹک کے مقام پر ہی بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک جامع سکیورٹی حکمت عملی ترتیب دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں آنے والے لانگ مارچ کے راستے میں اٹک کو اہم ترین رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں خیبر پختون خوا سے آنے والا قافلہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور اس کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
سکیورٹی حکام نے اٹک کے داخلی راستوں، شاہراہوں، موٹرویز اور اٹک پل کے اطراف سکیورٹی کی متعدد تہیں قائم کر دی ہیں جبکہ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کے علاوہ رینجرز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
اٹک اس لانگ مارچ کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان زمینی رابطے کے اہم راستے اسی ضلع سے گزرتے ہیں۔ خاص طور پر اٹک پل وہ مقام ہے جہاں دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد خیبر پختونخوا سے آنے والا بڑا قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ سکیورٹی حکام کے لیے یہ جغرافیائی صورتحال اس اعتبار سے اہم ہے کہ اٹک پر قافلے کو روکنے کی صورت میں اسے پنجاب کے اندر مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی محدود کیا جا سکتا ہے، جبکہ اٹک پل عبور کر لینے کے بعد مظاہرین کے لیے حسن ابدال، راولپنڈی اور پھر اسلام آباد کی سمت بڑھنے کے مزید راستے کھل جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسی صورت حال کے پیش نظر اٹک میں سکیورٹی کی چار تہیں قائم کی گئی ہیں اور پنجاب پولیس کے تقریباً 20 ہزار اہلکار ضلع کے مختلف علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ نفری پنجاب کے 26 اضلاع سے اٹک پہنچائی گئی ہے جبکہ اس کی نگرانی کے لیے ڈی آئی جی رینک کے 6 افسران اور ایس پی و ڈی ایس پی رینک کے تقریباً 200 افسران بھی تعینات ہیں۔ مجموعی طور پر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار لانگ مارچ کے پیش نظر موجود ہیں، جن میں پنجاب پولیس کی نفری سب سے زیادہ ہے جبکہ اسلام آباد میں سندھ پولیس کے تقریباً 2 ہزار اہلکار بھی خصوصی سکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔
اٹک میں تعینات پولیس نفری کو مختلف داخلی راستوں، اہم شاہراہوں، موٹرویز اور ان مقامات پر رکھا گیا ہے جہاں سے خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے پنجاب میں داخل ہو سکتے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ایبٹ آباد، ہری پور اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی شاہراہوں، صوابی انٹرچینج، خوشحال گڑھ، کوہاٹ روٹ، ہزارہ موٹروے، سی پیک روٹ اور حسن ابدال کے گردونواح میں بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر پہلے سے موجود رکاوٹوں میں مزید کنٹینرز رکھ کر سڑکوں کو تنگ کر دیا گیا ہے تاکہ بڑے قافلے کی بیک وقت پیش قدمی کو روکا جا سکے اور ہنگامی صورت حال میں تعینات نفری چند منٹوں کے اندر متعلقہ مقام پر پہنچ سکے۔
لانگ مارچ کے شرکا کے اٹک پل عبور کرنے کی صورت میں سکیورٹی حکام کے لیے صورتحال اس لیے زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے کہ اس کے بعد مظاہرین پنجاب کی حدود میں داخل ہو جائیں گے اور قافلے کو ایک ہی مقام پر روکنے کے بجائے متعدد راستوں پر سکیورٹی فورسز کو متحرک کرنا پڑے گا۔ اٹک پل کے بعد حسن ابدال اور راولپنڈی کی سمت بڑھنے والے راستے اسلام آباد کے قریب پہنچتے ہیں، اس لیے قافلے کا اٹک سے آگے نکلنا وفاقی دارالحکومت کے گرد پہلے سے قائم سکیورٹی حصار پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختون خوا سے آنے والے مظاہرین کے پنجاب میں داخل ہونے سے لانگ مارچ کو سیاسی اور نفسیاتی طور پر بھی ایک نئی رفتار ملنے کا امکان ہے، کیونکہ اس کے بعد اسے محض صوبائی حدود تک محدود احتجاج قرار دینا مشکل ہو جائے گا۔
سکیورٹی حکام کو ایک اور خدشہ یہ ہے کہ اگر سہیل آفریدی کی قیادت میں آنے والا قافلہ اٹک پل عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو راستے میں موجود دیگر کارکن اور حامی بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے منصوبے کے مطابق کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سمیت مختلف اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہونے والے ہیں، جبکہ پشاور سے گزرنے کے بعد اس قافلے کے حجم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ایسی صورت میں اٹک پر بڑے مجمع کو روکنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے اور سکیورٹی فورسز کو ایک ہی وقت میں قافلے کے حجم، مختلف راستوں اور ممکنہ طور پر منتشر ہونے والے مظاہرین سے نمٹنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت نے لانگ مارچ کی تاریخ میں تبدیلی اور سیاسی مذاکرات کے امکانات کے باوجود سکیورٹی انتظامات میں بڑی تبدیلی نہیں کی۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں اہلکار اب بھی تعینات ہیں جبکہ سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں رکھے گئے کنٹینرز بھی واپس نہیں ہٹائے گئے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے لانگ مارچ میں تاخیر کے بعد کنٹینرز واپس لینے کی درخواست بھی ضلعی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھی۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے احتجاج کے ممکنہ دوبارہ آغاز کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اٹک میں تعینات نفری کے قیام اور انتظامات پر بھی حکومت کو بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق صرف اٹک میں ہزاروں اہلکاروں کو سرکاری سکولوں، صحت مراکز اور دیگر سرکاری عمارتوں میں ٹھہرایا گیا ہے جبکہ بعض افسران کے لیے ریسٹ ہاؤسز اور فرنشڈ مکانات حاصل کیے گئے ہیں۔ ضلع کے 60 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ایک متعلقہ پولیس اہلکار کے مطابق صرف کھانے کی مد میں اٹک میں روزانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہو رہے ہیں جبکہ افسران کے اخراجات، گاڑیوں کے ایندھن اور دیگر انتظامی اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
اتنی بڑی نفری کی تعیناتی کا بنیادی مقصد صرف اٹک پل پر رکاوٹ کھڑی کرنا نہیں بلکہ خیبر پختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے والے تمام ممکنہ راستوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ پنجاب پولیس کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جبکہ راولپنڈی، جہلم، میانوالی اور اٹک میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی ایک مقام پر مظاہرین رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کریں تو قریبی علاقوں میں موجود نفری فوری طور پر وہاں پہنچ سکے۔ اسی لیے پولیس اہلکاروں کو ایسے مقامات پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جہاں وہ ہنگامی صورتحال میں 15 سے 20 منٹ کے اندر متعلقہ پوائنٹ پر پہنچ سکیں۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ : کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی
یوں موجودہ صورتحال میں اٹک محض ایک ضلعی سرحد نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور حکومت کی سکیورٹی حکمت عملی کے درمیان فیصلہ کن مقام بن چکا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سہیل آفریدی کی قیادت میں آنے والے قافلے کو خیبر پختونخوا سے نکلنے کے بعد پنجاب میں گہرا داخل ہونے اور بالخصوص اٹک پل عبور کرنے سے پہلے ہی روک دیا جائے، کیونکہ پل عبور کرنے کے بعد قافلے کو اسلام آباد کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے مزید وسیع علاقے میں سکیورٹی انتظامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اگر لانگ مارچ اٹک کی رکاوٹ عبور کر لیتا ہے تو یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بڑی سیاسی اور نفسیاتی کامیابی تصور ہو سکتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے لیے اسلام آباد کے داخلی راستوں پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی دونوں محاذوں پر صورتحال زیادہ پیچیدہ ہونے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
