حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ڈیل کا امکان صفر

 

 

 

تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے آغاز کے بعد وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مزید مذاکرات کا امکان ختم ہوگیا ہے اور حکومت نے اب اپنی تمام توجہ احتجاجی مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر مرکوز کر دی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصادم سے بچنے کی کوششیں آخری مرحلے تک جاری رہیں تاہم لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد حکومت کے لیے احتجاج اور مذاکرات کو بیک وقت آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔

 

دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کا فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اپنی پریس کانفرنس میں پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات تقریباً کامیاب ہو گئے تھے اور کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مؤقف نے اس عمل کو ٹارپیڈو کر دیا۔ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ آخری مرحلے میں سہیل آفریدی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی سے متعلق نکات پر اعتراضات اٹھائے گئے جس کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ اب لانگ مارچ کے آغاز کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ صورتحال بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور احتجاج کے دوران مزید مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد یہ تھی کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس کے ساتھ تحریک انصاف کے سیاسی اور انسانی حقوق سے متعلق مطالبات پر بھی پیش رفت کی جائے۔ دونوں مذاکراتی ٹیمیں کئی اہم نکات پر اتفاق کے قریب پہنچ گئی تھیں، تاہم آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات اور بعض سیاسی شرائط سامنے آنے کے بعد پورا عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ حکومت کا خیال ہے کہ لانگ مارچ کے ذریعے سیاسی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ مذاکراتی عمل کے لیے باقی ماندہ گنجائش بھی ختم کر چکا ہے۔

 

وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بنیادی اختلاف صرف سیاسی مطالبات تک محدود نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بھی تنازع کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے صوبائی حکومت کا مکمل تعاون ضروری ہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی تک رسائی، سیاسی کارکنوں کے معاملات، ملاقاتوں اور دیگر سیاسی و انسانی حقوق کے مطالبات کو بھی وسیع تر مذاکراتی پیکیج کا حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق سکیورٹی سے متعلق معاملات کو سیاسی دباؤ یا احتجاج کے ساتھ مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

 

موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا حکومت کا کردار بھی مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وفاقی مؤقف کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسے تحفظات پیش کیے جن کے باعث پہلے سے طے پانے والے فارمولے پر عمل درآمد ممکن نہ رہا۔ دوسری طرف صوبائی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ بعض تجاویز صوبے کے لیے قابل قبول نہیں اور صوبائی خودمختاری اور سیاسی معاملات کو نظرانداز کرکے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس اختلاف نے تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ مرکزی قیادت اور صوبائی حکومت کے درمیان کسی حساس سیاسی و سکیورٹی معاملے پر حتمی فیصلہ کس سطح پر کیا جائے گا۔

 

اسلام آباد مارچ کے آغاز کے بعد حکومت کے لیے معاملہ اب محض ایک سیاسی احتجاج کا نہیں رہا بلکہ ریاستی رٹ، دارالحکومت کی سکیورٹی اور معمولات زندگی برقرار رکھنے کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد میں ایسا احتجاج قبول نہیں کیا جائے گا جس کے نتیجے میں اہم شاہراہیں، سرکاری تنصیبات یا شہری زندگی متاثر ہو۔ دوسری جانب تحریک انصاف لانگ مارچ کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانے کا ذریعہ قرار دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اب مذاکراتی رابطوں کے بجائے احتجاج کو روکنے، دارالحکومت تک رسائی محدود کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامی و سکیورٹی اقدامات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

 

وزیر داخلہ محسن نقوی کا پشاور کا دورہ اور گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات بھی اسی وسیع تر سیاسی اور انتظامی صورتحال میں اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون، امن و امان اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر صوبائی حکومت کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر تعاون کا کوئی قابل عمل طریقہ کار طے ہوجاتا تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی تھی، تاہم لانگ مارچ کے آغاز کے بعد مذاکرات کی بحالی کے امکانات اب صفر دکھائی دیتے ہیں۔

رینجرز اور پولیس جوان لانگ مارچ کو کیسے کاؤنٹر کریں گے؟

موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کا بنیادی امتحان یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف کے احتجاج کو کاؤنٹر کرتے ہوئے سیاسی تصادم کو مزید پھیلنے سے کیسے روکتی ہے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اسلام آباد مارچ کے ذریعے سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے لیے مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند ہونے سے کیسے بچاتی ہے۔ ماضی میں پاکستان کی سیاست میں مذاکراتی عمل کئی مرتبہ آخری مرحلے پر تعطل کا شکار ہونے کے باوجود دوبارہ شروع ہوا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کے آغاز نے فریقین کے درمیان اعتماد کی گنجائش مزید ختم کردی ہے۔

Back to top button