رینجرز اور پولیس جوان لانگ مارچ کو کیسے کاؤنٹر کریں گے؟

وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکا کو ایک اور 9 مئی جیسے پرتشدد واقعے سے روکنے کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت اسلام آباد اور پنجاب کے اہم داخلی راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کرکے مارچ کو حساس مقامات تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حکمت عملی کے تحت پولیس ہجوم کو کنٹرول کرنے، راستے بند رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری ادا کرے گی جبکہ رینجرز پولیس کی معاونت کے لیے حساس مقامات اور ممکنہ تصادم کے مراکز پر موجود رہے گی۔
اسلام آباد میں سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی مسلح یا پرتشدد گروہ کی جانب سے حملے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے یا حساس تنصیبات پر دھاوا بولنے کی صورت میں قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے گی، تاہم پرامن احتجاج اور پرتشدد سرگرمی کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں مجموعی طور پر تقریباً 38 ہزار قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو تحریک انصاف کے گزشتہ بڑے احتجاج کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری 20 ہزار سے بھی کم تھی۔ حکام کے مطابق موجودہ سکیورٹی پلان کی تیاری میں 26 نومبر 2024 کے احتجاج سمیت ماضی کے مختلف واقعات سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھا گیا ہے، جبکہ اس مرتبہ اہلکاروں کو اضافی حفاظتی سازوسامان اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ احتجاجی قافلوں کو اسلام آباد کے مرکزی علاقوں اور حساس سرکاری تنصیبات تک پہنچنے سے پہلے مخصوص مقامات پر محدود کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے داخلی راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہجوم کو اچانک حساس مقام کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس کے مختلف دستے مرحلہ وار تعینات ہوں گے تاکہ صورتحال کو ایک ہی مقام پر قابو میں رکھا جاسکے اور احتجاج کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہوں۔
پنجاب میں راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی سمیت بعض اہم اضلاع میں بھی رینجرز کی تعیناتی اسی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاق سے رینجرز کی خدمات طلب کی تھیں تاکہ پولیس کو معاونت فراہم کی جاسکے اور ایسے مقامات پر اضافی فورس موجود ہو جہاں احتجاجی قافلوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کا خدشہ ہو۔ اس انتظام کے تحت رینجرز کو سول انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا، جبکہ پولیس مقامی سطح پر امن و امان، گرفتاریوں، راستوں کی نگرانی اور ہجوم کو منتشر کرنے کے بنیادی فرائض انجام دے گی۔
حکام کے مطابق رینجرز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ فورس کو ہر احتجاجی شخص کے خلاف بلاامتیاز طاقت استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ رینجرز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات اور پاکستان رینجرز آرڈیننس کے تحت کی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد سول انتظامیہ کی معاونت ہے۔ کسی پرتشدد یا مسلح حملے کی صورت میں اہلکار اپنے دفاع اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق ضروری کارروائی کرسکتے ہیں، تاہم طاقت کے استعمال کو خطرے کی نوعیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا ہوگا۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت تعینات فورسز کو دہشت گردی یا مخصوص پرتشدد جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری طاقت استعمال کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم یہ اختیارات لامحدود نہیں۔ قانون طاقت کے استعمال کو مخصوص حالات اور ضرورت سے مشروط کرتا ہے، جبکہ فائرنگ جیسے انتہائی اقدام کے لیے بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔
اسی لیے حکام کی موجودہ حکمت عملی میں کوشش یہ ہے کہ پولیس پہلے مرحلے میں ہجوم کو روکنے اور منتشر کرنے کے اقدامات کرے، جبکہ رینجرز کو ایسے حساس مقامات پر استعمال کیا جائے جہاں صورتحال پولیس کی معمول کی صلاحیت سے باہر جانے یا مسلح مزاحمت کا خدشہ پیدا ہو۔
ذرائع کے مطابق موجودہ سکیورٹی پلان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو گزشتہ احتجاجی واقعات کی نسبت صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ عملی خود مختاری بھی دی گئی ہے تاکہ کسی اچانک پیش آنے والے واقعے پر فوری ردعمل دیا جاسکے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہلکاروں کو قانونی حدود سے بالاتر کارروائی کی اجازت ہوگی۔ حکام کے نزدیک بنیادی خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب احتجاجی ہجوم رکاوٹیں توڑنے، پولیس یا رینجرز پر حملہ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا حساس تنصیبات کی طرف زبردستی پیش قدمی کی کوشش کرے، ایسی صورتحال میں فورسز کو مرحلہ وار جوابی اقدامات کا اختیار حاصل ہو گا۔
سکیورٹی حکمت عملی میں ماضی کے پرتشدد واقعات کو خاص اہمیت دی گئی ہے کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر احتجاجی ہجوم حساس سرکاری یا فوجی تنصیبات تک پہنچ گیا تو صورتحال محض سیاسی احتجاج تک محدود نہیں رہے گی۔ اسی لیے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی مارچ کے راستے میں مختلف سطحوں پر سکیورٹی حصار قائم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ اٹک اور راولپنڈی سمیت اہم مقامات کو اس اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں سے آنے والے قافلوں کو اسلام آباد کی طرف بڑھنے سے روکنے یا ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے پولیس، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان رابطہ رکھا جائے گا۔
اس پورے انتظام کا سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ ریاستی ادارے ایک طرف کسی ممکنہ 9 مئی جیسے پرتشدد واقعے کو روکنے میں کامیاب ہوں اور دوسری طرف پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق اور معمول کی نقل و حرکت کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہونے دیں۔ حکومت کے لیے 38 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی اور رینجرز کی معاونت ایک غیر معمولی سکیورٹی تیاری کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اس کے احتجاج کو پرتشدد تصادم میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ اٹک پر ہی روکنے کا فیصلہ
آنے والے گھنٹوں میں اصل فیصلہ کن مرحلہ یہی ہوگا کہ پولیس اور رینجرز اپنی مقررہ قانونی حدود میں رہتے ہوئے احتجاجی قافلوں کو حساس مقامات تک پہنچنے سے روک پاتے ہیں یا سکیورٹی حصار اور سیاسی احتجاج کے درمیان تصادم ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے۔
