پہاڑوں میں مرنے والی اسماء نے اپنی انشورنس کیوں نہ کروائی؟

گلگت بلتستان میں 7027 میٹر بلند سپنتک چوٹی پر مرنے ہونے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی ڈیڈ باڈی ان کی موت کے 17 روز بعد سکردو منتقل کر دی گئی ہے جہاں سے اسے لاہور لایا جائے گا۔ تاہم ان کی ڈیڈ باڈی کی واپسی میں تاخیر اور ریسکیو آپریشن کے لیے 30 لاکھ روپے کے مطالبے کے بعد ایک بنیادی سوال نے جنم لیا ہے کہ کیا اسماء نے سپنتک مہم پر روانگی سے قبل ایسی انشورنس کروائی تھی جو حادثے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں ریسکیو آپریشن کے اخراجات ادا کرتی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان الپائن کلب کے مطابق بلند پہاڑوں پر مہم جوئی کرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے حادثے کی صورت میں ریسکیو سروس انشورنس کا انتظام انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اسماء کے معاملے میں ٹور آپریٹر کمپنی ’قراقرم کالنگ‘ کے ترجمان یوسف نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر اسماء کی انشورنس کروائی گئی تھی، تاہم دستیاب انشورنس دستاویزات کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ریسکیو سروس انشورنس نہیں بلکہ گروپ لائف انشورنس تھی۔ یوں بنیادی مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ اگر کسی کوہ پیما کی لائف انشورنس موجود ہو لیکن اس میں پہاڑ سے زخمی یا مر جانے والے کوہ پیما کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر یا گراؤنڈ ریسکیو کے اخراجات شامل نہ ہوں تو حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن کی ادائیگی کون کرے گا؟ ڈاکٹر اسماء کے معاملے میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی، جب ان کی میت تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر موجود رہی اور اسے نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ٹور آپریٹر کمپنی کے ترجمان یوسف کے مطابق ڈاکٹر اسماء کے نام سے لائف انشورنس موجود تھی اور اگر ان کے وارث چاہیں تو وہ اس سے حاصل ہونے والی رقم ریسکیو آپریشن پر خرچ کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق انشورنس کی رقم حاصل ہونے میں کم از کم دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس صورت حال سے واضح ہوتا ہے کہ لائف انشورنس اور ریسکیو انشورنس دو الگ معاملات ہیں اور محض لائف انشورنس ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ حادثے کے بعد کوہ پیما کو پہاڑ سے نکالنے کا خرچ بھی فوری طور پر ادا ہو جائے گا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق بلند پہاڑوں پر ریسکیو سروس کے لیے الگ انشورنس درکار ہوتی ہے۔ اس انشورنس کے تحت حادثے یا ہنگامی صورتحال میں ہیلی کاپٹر سروس اور ضرورت پڑنے پر گراؤنڈ ریسکیو ٹیم کے اخراجات ادا کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹور آپریٹر کو حادثے کے بعد انشورنس کمپنی سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ادائیگی کی ضمانت یا ثبوت حاصل کرنے کے بعد فضائی یا زمینی ریسکیو سروس کو متحرک کیا جاتا ہے۔
پاکستان الپائن کلب کے مطابق دنیا میں صرف چند بین الاقوامی کمپنیاں بلند پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن کے لیے انشورنس فراہم کرتی ہیں جبکہ پاکستان میں فی الحال ایسی مخصوص انشورنس کمپنی موجود نہیں۔ ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد کے مطابق پاکستانی ٹور آپریٹرز عموماً بین الاقوامی کمپنیوں کے ذریعے اس نوعیت کی انشورنس کا انتظام کرتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر اسماء کے معاملے میں اصل سوال یہ بھی ہے کہ سپنتک مہم کے لیے انکے گروپ کی دستاویزات میں ریسکیو سروس انشورنس شامل تھی یا صرف لائف انشورنس کروائی گئی تھی۔
دوسری جانب ٹورازم سے وابستہ محبوب علی کے مطابق پاکستان میں ٹریکنگ یا کوہ پیمائی کے لیے جانے والے افراد کو متعلقہ علاقے میں حکومت کے پاس رجسٹریشن کرانا ہوتی ہے اور اس عمل میں انشورنس بھی اہم مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق بنیادی طور پر لائف انشورنس اور ریسکیو سروس آپریشن انشورنس الگ الگ ہوتی ہیں۔ لائف انشورنس مقامی کمپنیوں سے حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ بلند پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن کے لیے مخصوص انشورنس درکار ہوتی ہے۔
یہ معاملہ ڈاکٹر اسماء کی موت کے حالات کے حوالے سے مزید اہم ہو جاتا ہے۔
الپائن کلب کے مطابق ان کی موت 20 اگست کو سپنتک سے واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر ’ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی‘ کے باعث ہوئی۔ انہوں نے چوٹی کامیابی سے سر کر لی تھی تاہم واپسی کے دوران اچانک طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے گائیڈ اکبر علی نے انہیں طبی امداد دینے کی کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیم نے اگلے روز ڈاکٹر اسماء کی میت کو بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی، تاہم شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ خراب موسم کے باعث آپریشن متعدد مرتبہ متاثر ہوا اور میت تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر رہی۔
اسی دوران اہلخانہ کے مطابق بعض ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز نے میت نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جس کی الپائن کلب نے بھی تصدیق کی، جبکہ ٹور آپریٹر کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ رقم اس نے نہیں بلکہ بعض نجی پورٹرز نے طلب کی تھی۔ ڈاکٹر اسماء کے اہلخانہ نے حادثے سے پہلے اور بعد کے تمام واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ الپائن کلب کے صدر عرفان ارشد بھی کہہ چکے ہیں کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اگر گائیڈ، ہائی ایلٹیٹیوڈ عملے یا ٹور کمپنی کو ڈاکٹر اسماء کی طبیعت خراب ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا تو انہیں بروقت واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر وہ خود واپس آنے سے انکار کر رہی تھیں تو بھی ان کی حفاظت کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔
ڈاکٹر اسماء کی موت کا معاملہ پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کے موجودہ نظام کی ایک بڑی کمزوری بھی سامنے لاتا ہے۔ عرفان ارشد کے مطابق پاکستان میں اب تک بلند پہاڑوں پر ریسکیو کے لیے عسکری ایوی ایشن پر انحصار کیا جاتا رہا ہے اور کئی مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ سروس مفت بھی فراہم کی گئی، تاہم دنیا میں مفت ریسکیو کا تصور عام نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں نجی ریسکیو سروس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس معاملے کا بنیادی سبق یہی ہے کہ کسی کوہ پیما کے لیے صرف لائف انشورنس کافی نہیں بلکہ مہم پر روانگی سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ حادثے کی صورت میں ریسکیو آپریشن، ہیلی کاپٹر، گراؤنڈ ٹیم اور ضرورت پڑنے پر میت کی واپسی کے اخراجات کون ادا کرے گا۔ ڈاکٹر اسماء مشتاق کے کیس میں ٹور آپریٹر کا دعویٰ ہے کہ ان کی انشورنس موجود تھی، لیکن دستاویزات کے مطابق وہ لائف انشورنس تھی، ریسکیو سروس انشورنس نہیں۔ چنانچہ اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ’انشورنس تھی یا نہیں‘ بلکہ یہ ہے کہ سپنتک مہم کے لیے کیا ڈاکٹر اسماء کی ریسکیو انشورنس بھی کروائی گئی تھی، اور اگر نہیں تو کوہ پیمائی کے مقررہ حفاظتی اصولوں پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟
