کیا شریف خاندان کشمیر کی بجائے بھارت کو ترجیح دیتا ہے؟

معروف اینکر پرسن حامد میر کا تجزیہ
جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز دراصل پاکستان کی وزیرِ اعظم بننے کی تیاری میں ہیں اور یہ تیاری اکثر ان کے بیانات اور تقریروں میں بھی جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے ایک تازہ بیان نے جہاں پورے بھارت کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا ہے وہیں یہ اہلِ کشمیر کے لیے پریشانی کا باعث بھی بنا ہے، یاد رہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ انہیں اپنے پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ اپنے پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کا ذیادہ خطرہ ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِ اعلیٰ کا یہ بیان اُن تمام حکومتی دعووں کے برعکس دکھائی دیتا ہے جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے مریم نواز اور ان کے ترجمان اس بیان کی کوئی وضاحت پیش کریں، تاہم انہیں یہ بیان پڑھ کر معروف کشمیری صحافی شیخ محمد امین کی چند ماہ قبل شائع ہونے والی کتاب ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ یاد آگئی۔
حامد میر نے اپنے تجزیے میں ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ کے مصنف شیخ محمد امین کے تعارف اور ان کی کتاب میں پیش کیے گئے خیالات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق شیخ امین کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے ہند واڑہ سے ہے۔ وہ سرینگر کی کشمیر یونیورسٹی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور ہفت روزہ ’چٹان‘ سرینگر سے صحافت کا آغاز کیا۔
حامد میر کے مطابق آزادی کی جدوجہد سے وابستگی کے باعث شیخ محمد امین کو جیل بھی جانا پڑا اور انہوں نے تقریباً دو سال قید میں گزارے۔ رہائی کے بعد وہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی نظروں سے اوجھل ہوگئے اور 2010ء میں مظفرآباد سے شائع ہونے والے جریدے ’’کشمیر الیوم‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ بن گئے۔ وہ متعدد کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نئی کتاب ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ میں شیخ محمد امین نے تحریکِ آزادی کشمیر کے ماضی اور حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کے حوالے سے بھی اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔
حامد میر کے مطابق کتاب میں نواز شریف کے بارے میں مصنف کا لب و لہجہ خاصا سخت ہے اور انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتے ہوئے انہیں کشمیریوں کے حوالے سے ذمہ دار قرار دیا ہے۔
حامد میر نے بتایا کہ شیخ محمد امین نے اپنی کتاب میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف نے بطور وزیراعظم مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے کے بجائے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کو ترجیح دی۔ کتاب میں بھارتی صنعتکار سجن جندال کے ساتھ نواز شریف کی دوستی اور مبینہ کاروباری تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
حامد میر کے مطابق شیخ محمد امین نے اپنی کتاب میں سابق بھارتی وزیراعظم آئی کے گجرال کے حوالے سے 1997ء کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ کتاب کے مطابق آئی کے گجرال نیویارک سے واپسی پر اپنے طیارے میں موجود صحافیوں سے نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے اور ان کے بقول نواز شریف نے ملاقات کے دوران کشمیر کے معاملے پر زیادہ بات چیت نہیں کی تھی۔
تجزیہ کار کے مطابق کتاب میں 2014ء میں نواز شریف کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شیخ محمد امین نے 2015ء میں روس کے شہر اُوفا میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس اعلامیے سے کشمیر کا لفظ غائب تھا۔ حامد میر نے کہا کہ کتاب میں اس کے بعد مودی کے اچانک لاہور آنے اور مریم نواز کی صاحبزادی کی شادی میں شرکت کرنے کے واقعے کا بھی ذکر موجود ہے۔
حامد میر نے بتایا کہ شیخ محمد امین نے کتاب میں ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مصنف کی رائے میں باجوہ ڈاکٹرائن دراصل نواز شریف کی ’’تاجرانہ ڈاکٹرائن‘‘ کا تسلسل تھی، جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو منجمد کرکے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینا تھا۔
تاہم کتاب کے مطابق دوسری جانب بھارت نے کلبھوشن یادیو جیسے کرداروں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی پالیسی جاری رکھی۔ حامد میر نے بتایا کہ شیخ محمد امین نے پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کی نااہلی اور اس کے بعد عمران خان کے وزیراعظم بننے کے واقعات کو بھی اپنی مخصوص نظر سے بیان کیا ہے۔ حامد میر کے مطابق شیخ محمد امین کا کہنا ہے کہ جب جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ احساس ہوا کہ عمران خان ان کی ڈاکٹرائن کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تو ’’گھوڑا‘‘ تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
تاہم حامد میر نے واضح کیا کہ شیخ محمد امین کے ان خیالات سے اختلاف کرنے والے بھی بہت سے لوگ موجود ہیں۔ ان کے مطابق اس کتاب کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ایک حصے میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے بارے میں پیدا ہونے والی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے۔ کتاب میں اس مایوسی کا نقطۂ آغاز 21 فروری 1999ء کو نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان طے پانے والے اعلانِ لاہور کو قرار دیا گیا ہے جبکہ اس کی انتہا 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بتایا گیا ہے۔
حامد میر کے مطابق کتاب کے دو اہم ابواب کے نام ’’تاجرانہ ڈاکٹرائن‘‘ اور ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ ہیں۔ ان کے بقول یہ کتاب مئی 2025ء کی جنگ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بعد شائع ہوئی، جس میں مصنف نے پاکستان کے مؤقف اور کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے بھی اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔
تجزیے میں حامد میر نے یہ بھی بتایا کہ شیخ محمد امین نے کتاب میں کشمیر کی تحریکِ آزادی سے وابستہ ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جنہیں ان کے مطابق بھارتی خفیہ اداروں نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ حامد میر کے مطابق شیخ محمد امین نے کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 2008ء کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی تحریکِ آزادی ختم کرنے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ مصنف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کشمیر کو ایک نئے غزہ میں تبدیل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
حامد میر نے بتایا کہ ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ کے اختتام پر شیخ محمد امین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل نہ کیا گیا تو کسی بھی وقت ایک معمولی چنگاری بہت بڑی آگ میں تبدیل ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کی تاریخ بلکہ جغرافیہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا حالیہ بیان بھی اسی وسیع تر تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی میں بھارت کو ایک اہم بیرونی خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے بقول اگر وزیرِ اعلیٰ پنجاب یہ کہتی ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ پڑوسی ملک کے بجائے پڑوسی صوبوں سے ہے تو اس بیان کی سیاسی اور قومی سلامتی کے تناظر میں وضاحت ضروری ہے۔
