تینوں بڑی جماعتوں کے لیے فیصلہ کن مرحلہ کیسے آ گیا

سینئیر صحافی سہیل وڑائچ کا تجزیہ
معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں برسوں سے اقتدار اور طاقت کے مراکز کے ساتھ چلنے والی تمام بڑی جماعتوں کو اپنے سیاسی مفادات، نظریاتی مؤقف اور مستقبل کی سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ نے ’’لوہے اور پارس‘‘ کی مثال کے ذریعے موجودہ سیاسی منظرنامے کی تشریح کی ہے۔ ان کے مطابق ’’پارس‘‘ طاقت، اختیار اور اقتدار کی علامت ہے جبکہ ’’لوہا‘‘ سیاسی جماعتوں اور عام سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر معمولی سیاسی حالات میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کونسی سیاسی قوت کس طاقت کے سہارے کھڑی ہے اور اس کا اصل سیاسی وزن کتنا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ملک میں سیاسی، معاشی اور حکومتی سطح پر جو مسائل اور کوتاہیاں ایک عرصے سے موجود تھیں، اب ان کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک عرصے سے اس کے آثار دکھائی دے رہے تھے، تاہم اب واقعات نے تیزی اختیار کر لی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان پرانے طرز کی مفاہمت پہلے جیسی مؤثر دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے موجودہ حکومتی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی طویل عرصے سے اقتدار میں ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہیں، لیکن موجودہ سیاسی ہلچل سے نمٹنے کے لیے دونوں جماعتوں کی کوئی واضح تیاری نظر نہیں آتی۔
ان کے بقول حکومتی اتحاد کی اندرونی کمزوریاں اور باہمی اختلافات اب زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور وفاقی سطح پر بھی ہر معاملے پر مکمل یکسوئی دکھائی نہیں دیتی۔ سہیل وڑائچ نے خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیے موجودہ صورتحال کو ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ایک طویل عرصے سے سندھ میں اقتدار میں ہے اور اقتدار کے ساتھ اس کی وابستگی نے اسے مضبوط سیاسی حیثیت دی، تاہم اب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار کے موجودہ بندوبست کے ساتھ کھڑی رہتی ہے یا اپنے روایتی سیاسی مؤقف اور عوامی سیاست کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وہ طاقت کے مرکز کے قریب رہ کر اپنے سیاسی اور حکومتی مفادات کا تحفظ کرتی ہے یا ایسے فیصلے کرتی ہے جن سے اس کے روایتی سیاسی ووٹ بینک اور نظریاتی سیاست کو تقویت مل سکے۔ اگر وہ اقتدار کے قریب رہتی ہے تو اسے فوری سیاسی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں اس کے سیاسی مؤقف اور عوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب سہیل وڑائچ نے مسلم لیگ (ن) کی صورت حال کو بھی اسی ’’لوہا اور پارس‘‘ کے استعارے سے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اقتدار کے طاقتور مراکز کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے ہیں اور اب یہ تعلق محض سیاسی ضرورت سے آگے بڑھ کر ایک مستقل سیاسی حکمت عملی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ایسی آوازیں موجود ہیں جو طاقت کے موجودہ بندوبست کے ساتھ مزید قریب ہونے کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت صوبوں کی ممکنہ تقسیم سمیت ان بڑے سیاسی معاملات پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے جن کے ملکی سیاست پر طویل المدت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے تحریک انصاف کی صورتحال کو بھی موجودہ سیاسی بحران کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں کے لیے بھی یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت اور مصلحت کے نام پر کسی ایسے سمجھوتے کا حصہ نہ بن جائیں جس سے ان کی طویل سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کا مقصد متاثر ہو۔
ان کے مطابق تحریک انصاف کے اندر ایک طرف یہ سوچ موجود ہے کہ موجودہ سیاسی بندش ختم کرنے کے لیے طاقت کے مراکز سے رابطہ اور مفاہمت ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف پارٹی کے بعض رہنما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقتدار یا سیاسی راستہ کھولنے کے لیے اصولی مؤقف کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔
سہیل وڑائچ کے تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کے اتحادیوں کے لیے ایک مشکل صورت حال یہ بھی ہے کہ ان کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کے سیاسی حریف کو بھی مختلف حوالوں سے دوبارہ سیاسی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی زوال کا آغاز اکثر اسی وقت ہوتا ہے جب حکمران اتحاد اندرونی اختلافات کا شکار ہو اور اس کے مقابلے میں موجود سیاسی قوت دوبارہ جگہ بنانا شروع کر دے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اقتدار اور طاقت کے سہارے سیاسی جماعتوں کو وقتی طور پر غیر معمولی سیاسی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن محض طاقت کے قریب ہونے سے کوئی سیاسی جماعت مستقل طور پر مضبوط نہیں ہو جاتی۔ طاقت کا سایہ عارضی ہوتا ہے اور اقتدار کے حالات تبدیل ہوتے ہی سیاسی صف بندی بھی بدل سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق تاریخ میں وہ سیاسی قوتیں زیادہ دیر تک یاد رکھی جاتی ہیں جنہوں نے طاقت کے استعمال کے بجائے عوامی مفاد، عوامی رائے، امن، معاشی سہولت اور لوگوں کی زندگی آسان بنانے کو ترجیح دی۔ ان کے نزدیک سیاسی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کسی جماعت نے اقتدار میں رہ کر اپنی مرضی کس حد تک منوائی، بلکہ یہ ہے کہ اس نے عوام کے لیے کیا کیا۔
انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آج کی تینوں بڑی سیاسی قوتیں ’’پارس‘‘ یعنی طاقت اور اقتدار کے قریب رہنے کو ترجیح دیں گی یا ’’لوہے‘‘ کی اپنی اصل سیاسی شناخت اور عوامی وابستگی کو برقرار رکھیں گی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کے لیے غیر فیصلہ کن رویہ اختیار کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان کے اصل سیاسی مؤقف اور ترجیحات زیادہ واضح ہو سکتی ہیں۔
