ریفرنڈم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز

وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس اعلان کے بعد کے نئے صوبوں کے قیام بارے حتمی فیصلہ عوام کا ہو گا، وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ خان نے واضح کیا ہے کہ اس ایشو پر ریفرنڈم کا فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہو گا، اور اگر عوام نئے صوبوں کے حق میں رائے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو اس رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کرنے کا ایک راستہ ہے، تاہم اس کا فیصلہ وزیراعظم اپنی سطح پر نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عوام سے رائے لی جائے تو پھر عوام کی رائے حاصل کی جانی چاہیے اور اگر عوام نئے صوبوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو بھی اس رائے کی پاسداری کرنی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے بنیادی طریقہ کار وہی ہوگا جو آئین میں درج ہے اور پارلیمنٹ آئینی طریقہ کار ہی اختیار کرے گی۔

تاہم اگر پارلیمنٹ اس آئینی عمل سے قبل عوام کی رائے معلوم کرنا چاہے تو ریفرنڈم کے ذریعے ایسا کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد عوام کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ابھی کچھ دن مزید جاری رہے گی، جس کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سینیٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے، اس لیے ان کے خیال میں اس معاملے پر بحث کا آغاز پہلے سینیٹ سے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ اگرچہ فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی طرف جاتا دکھائی نہیں دے رہا، تاہم حکومتی اور فیصلہ ساز حلقوں کے درمیان اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ ایک جانب نئے صوبوں کو انتظامی ضرورت اور وقت کا تقاضا قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اس تجویز کے سیاسی اثرات اور بالخصوص صوبائی حساسیت کے باعث حکمران جماعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم، انتظامی مسائل اور حکومتی امور کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔ ان حلقوں کے مطابق ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی نظام کو مؤثر نہ بنائے جانے کے باعث بھی انتظامی اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کا مسئلہ برقرار ہے، جس کے نتیجے میں نئے صوبوں کی بحث نے دوبارہ اہمیت حاصل کی ہے۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو پیپلز پارٹی کی جانب سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی پہلے ہی سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم کے کسی بھی آپشن کو مسترد کرتی رہی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی سندھ کے معاملے پر پارٹی کے مؤقف میں کسی بڑی تبدیلی کے اشارے سامنے نہیں آئے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی پوزیشن بھی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اب تک نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کوئی ایسی واضح اور دوٹوک پوزیشن اختیار نہیں کی جس سے پارٹی کی حتمی حکمت عملی سامنے آسکے۔

مسلم لیگ ن کے اندر بھی پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے مختلف آرا اور تحفظات موجود ہیں، تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر واقعی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے لیے پارلیمانی راستہ اختیار کیا جائے گا یا عوامی رائے کے حصول کے لیے ریفرنڈم کا آپشن استعمال کیا جائے گا۔ آئینی طور پر نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ آئینی شقوں کے تحت پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم اور مطلوبہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر اس عمل کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں رانا ثنا اللہ کا ریفرنڈم سے متعلق بیان خاص اہمیت اختیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق ریفرنڈم خود نئے صوبے بنانے کا متبادل آئینی طریقہ نہیں بلکہ عوام کی رائے معلوم کرنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ حتمی فیصلہ بہرحال آئینی طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ ہی کرے گی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ خطاب بھی اس بحث کو مزید اہمیت دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی فرد واحد یا کوئی ایک جماعت نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے عمل کو نہیں روک سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اخری فیصلہ عوام کا ہوگا جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ شاید وہ عوامی ریفرنڈم کی بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی جماعت کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی حلقوں میں ان کے بیان کو بالخصوص پیپلز پارٹی کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں نئے صوبوں کی بحث محض انتظامی ضرورت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک اہم سیاسی اور آئینی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس معاملے میں صوبائی شناخت، سیاسی جماعتوں کے مفادات، انتخابی سیاست، وسائل کی تقسیم اور انتظامی اصلاحات سمیت متعدد عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر فیصلہ اب محض حکومت یا وزیراعظم کی سطح پر ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔ رانا ثنا اللہ کے بیان نے واضح کردیا ہے کہ اگر ریفرنڈم کا آپشن زیر غور آتا ہے تو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں آئینی تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
یوں اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی بحث ختم ہوگی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ بحث کس فورم پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگی۔ کیا پارلیمنٹ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرکے آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کی راہ ہموار کرے گی، کیا اس سے پہلے عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کا فیصلہ کیا جائے گا، یا سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات اس معاملے کو ایک بار پھر مؤخر کردیں گے؟

Back to top button