پاکستان میں بادل پھٹنےسےبارش کےبم کیوں چلنےلگے؟

بادل پھٹنے کے اچانک اور تباہ کن واقعات نے پاکستان اور بھارت دونوں ہمسایہ ممالک میں قیامت ڈھا رکھی ہے۔ قدرتی منظردکھائی دینے والی چند منٹوں کی تیز بارش پورے پورے دیہات کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیتی ہے، سینکڑوں زندگیاں نگل جاتی ہے اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں آنے والی ان سیلابی تباہ کاریوں کی اصل وجہ کلاؤڈ برسٹ کو قرار دیا جا رہا ہے تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنا کیا ہوتا ہے؟ یہ کلاؤڈ برسٹ کیوں ہوتا ہے؟ پاکستان اور بھارت اس کی زد میں کیوں ہیں؟
ماہرین کے مطابق جب بہت مختصر وقت میں کسی محدود علاقے میں ایک گھنٹے کے اندر 100 ملی میٹر یعنی تقریباً چار انچ سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جائے تو اس صورتحال کو کلاؤڈ برسٹ قرار دیا جاتا ہے۔ جو سیلابی صورتحال کی وجہ بنتی ہے چونکہ بادل پھٹنے کے واقعات اچانک اور شدید ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں تباہ کن اثرات مرتب ہوتے اور وسیع پیمانے پر بربادی ہوتی ہے۔ یہ کئی گھنٹوں یا اس سے زیادہ وقت تک معمول کی بارش کے برابر ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے میں بادل پھٹ کر اپنا سارا بوجھ ایک ہی وقت میں گرا دیتا ہے جیسے بارش کا بم پھٹ گیا ہو۔ جو بڑی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بادل پھٹنے میں کئی عوامل کردار ادا کرتے ہیں جن میں گرم اور نم ہوا کا اوپر اٹھنا، زیادہ نمی، کم دباؤ، عدم استحکام اور کنویکٹیو بادلوں کی تشکیل شامل ہیں۔نم ہوا جب کسی پہاڑی یا پہاڑ سے ٹکراتی ہے تو اسے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ یہ اٹھتی ہوئی ہوا ٹھنڈی ہو کر گاڑھی ہو جاتی ہے۔ اس سے بڑے، گھنے اور شدید بارش برسانے کی صلاحیت رکھنے والے بادل بنتے ہیں۔پہاڑ یا پہاڑیاں رکاوٹ کا کام کرتے ہیں اور اکثر ان بادلوں کو ایک جگہ مقید ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آسانی سے بکھر یا حرکت نہیں کر پاتے۔طاقتور اوپر اٹھنے والا بہاؤ نمی کو بادلوں کے اندر معلق رکھتا ہے اور بارش کو مؤخر کر دیتا ہے۔ تاہم جب بادل مزید جمع شدہ نمی کو تھام نہیں پاتے تو وہ پھٹ جاتے ہیں اور ایک ہی بار میں تمام پانی برسا دیتے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق نمی، مون سون اور پہاڑ تین بنیادی عوامل کو کلاؤڈ برسٹ کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے خطوں میں یہ تینوں موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقے اس قسم کے شدید موسمی واقعات کی زد میں ہیں۔ ان دونوں جنوبی ایشیائی ممالک میں بادل پھٹنے کے واقعات کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ گرم ہوتا ہوا ماحول ہے، کیونکہ گرم ہوا زیادہ نمی سنبھال سکتی ہے اور اس سے اچانک اور شدید بارشوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق فضا میں کرۂ ارض کو گرم کرنے والی گیسوں کی زیادتی کے باعث نمی، پہاڑ اور مون سون کا ملاپ ان نمی سے بھرے ہواؤں کو اوپر کی طرف اٹھنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے اچانک گاڑھا پن پیدا ہوتا ہے اور بادل پھٹنے کے واقعات جنم لیتے ہیں۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بادل پھٹنے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟ ماہرین کے مطابق بادل پھٹنے کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ اپنے حجم، دورانیے، اچانک وقوع پذیر ہونے اور فضائی نظام کی پیچیدگی کے باعث غیر یقینی ہوتے ہیں۔ ’دنیا میں کہیں بھی ایسا پیش گوئی نظام موجود نہیں جو بادل پھٹنے کے درست وقت اور مقام کی اطلاع دے سکے۔ ابتدائی وارننگ سسٹم کے باوجود کلاؤڈ برسٹ کی صورت میں عوام کو اس حوالے سے پیشگی خبردار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔تاہم شجر کاری، نکاسی آب کی باقاعدہ صفائی اور بہتر منصوبہ بندی بھی بڑے نقصان کو کم کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ان واقعات کی شدت میں اضافہ کیا ہے کیونکہ ہر ایک ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں تقریباً 7 فیصد زیادہ نمی جذب ہو جاتی ہے۔ یوں بادل پھٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ گلیشیئرز پگھلنے سے پہاڑی ڈھلوان غیر مستحکم ہو رہی ہیں جبکہ بے ہنگم تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی نے خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔جب تک موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سنجیدگی سے مقابلہ نہیں کیا جاتا، بادل پھٹنے جیسے واقعات معمول بنتے جائیں گے اور ان کی تباہ کاری مزید بڑھتی جائے گی۔
