پاکستان میں ٹماٹر گوشت سے بھی زیادہ مہنگا کیوں ہو گیا؟

حالیہ سیلاب میں ٹماٹر کی فصل کی تباہی اور پاک افغان سرحد کی بندش سے ٹماٹروں کی ترسیل میں کمی کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرخ ٹماٹروں کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد عوام کے چہرے بھی غصے سے لال سرخ ہو گئے ہیں۔ لاہور کے عام بازاروں میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 500 سے 550 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ٹماٹر 480 سے 600 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں بھی ٹماٹر 400 سے 450 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔ قیمت میں اچانک بڑے اضافے کی وجہ سے ٹماٹر عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟

مبصرین کے مطابق پاکستان میں ٹماٹر کی قیمت میں حالیہ اضافہ کئی معاشی اور انتظامی وجوہات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں غیر متوقع بارشوں، سیلاب اور موسمی تبدیلیوں کے باعث ٹماٹر کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ کئی علاقوں میں ٹماٹر کی فصل مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہو گئی ہے۔ چونکہ ٹماٹر ایک موسمی فصل ہے، اس کی پیداوار میں معمولی کمی بھی منڈی میں بڑی قلت پیدا کر دیتی ہے۔ دوسری طرف، حکومت کی ناقص زرعی منصوبہ بندی، ذخیرہ اندوزی اور درآمدی انحصار نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ حالیہ دنوں پاک افغانستان کشیدگی کے بعد ٹماٹر کی سپلائی لائن متاثر ہونے سےمارکیٹ میں ٹماٹر کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے میں منڈیوں میں موجود منافع خور مافیا کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آڑھتی حضرات نے ٹماٹر سستے داموں خرید کر گوداموں میں ذخیرہ کررکھا ہے اوراب مصنوعی قلت پیدا کرکے من چاہے داموں پر ٹماٹر فروخت کر کے لاکھوں روپے منافع کما رہے ہیں جبکہحکومتی ادارے صرف نرخنامے جاری کرنے تک محدود ہیں، عملدرآمد کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً عام صارف مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔

تاہم سبزی منڈی میں موجود آڑھتیوں کے مطابق ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں کی بندش ہے انھوں نے بتایا: ’نارمل حالات میں روزانہ کابل سے ٹماٹر کے 30 سے 40 کنٹینر آتے ہیں اور مارکیٹ میں سپلائی ہوتے ہیں لیکن اب ایران اور خیبر پختونخوا سے روزانہ ٹماٹروں کےصرف 15 کنٹینرز آرہے ہیں۔‘کابل سے ٹماٹر کی سپلائی بند ہونے سے پاکستانی مارکیٹ پربڑا اثر پڑا ہے اور طلب اور سپلائی میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتیں آسمان کی بلندی کو چھوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ میں پہلے پنجاب اور بلوچستان کے ٹماٹر سپلائی ہوتے ہیں جبکہ اکتوبر، نومبر میں خیبرپختونخوا اور کابل کے ٹماٹروں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ تاہم اس سال ژالہ باری اور بیماری کی وجہ سے سوات اور دیر کے ٹماٹر کی پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب کابل سے بھی سپلائی بند ہوگئی تو اس سے مارکیٹ پر اثر پڑا ہے اور ٹماٹر کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔‘ آڑھتیوں کے مطابق سندھ کے ٹماٹر کی سپلائی 15 سے 20 دنوں میں شروع ہو جائے گی تو اس سے قیمتیں بالکل نارمل ہوجائیں گی اور اگر افغانستان بارڈر کھل گی تو اس سے بھی ٹماٹر کی قیمتیں مزید کم ہوجائیں گی۔

ٹماٹر کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صارفین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ ٹماٹر کی قیمت میں ہوشربا اضافے بارے پی ٹی آئی رہنما مزمل اسلم نے لکھا ہے کہ مرغی 320 روپے کلو اور ٹماٹر 550 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں، عوام حیران ہیں کہ مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی۔

نادر بلوچ نے لکھا کہ عوام مہنگائی اور بے بسی کی دہری اذیت میں مبتلا ہیں، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ثناء اللہ خان نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمتیں 500روپے کلو سے بڑھ گئی ہیں آٹے اور گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی سوئی ہوئی ہے۔ عوام کے مسائل سے اتنی بے خبر حکومت شاید ہی کبھی دیکھی ہو۔

ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے کئی صارفین نے ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ ٹماٹر نہ خریدیں۔  کچھ چیزیں دہی سے بہت اچھی بن جاتی ہیں، مچلز کا ٹماٹو پیسٹ 530 روپے کا 800 گرام ملتا ہے، سالن میں ایک چمچ ڈال لیجیے. مہینہ بھر چلے گا، تب تک ٹماٹر سستے ہو جائیں گے۔اسد یونس تنولی نے لکھا کہ آٹا 4200 روپے، ٹماٹر 500 روپے، چینی 200 روپے، اور ڈالڈا آئل 600 روپے فی کلو، مگر ن لیگ کے مطابق مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔

Back to top button