ٹرمپ مسلسل پاکستان کواٹھااوربھارت کوگراکیوں رہے ہیں؟

پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم ہوئے چھ ماہ گزر گئے لیکن امریکی صدر ٹرمپ پاک فضائیہ کے ہاتھوں انڈین ایئر فورس کے گرائے جانے والے جہاز گنوا کر وزیراعظم مودی کی چھاتی پر مونگ دلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کریں یا کسی غیر ملکی دورے پر ہوں اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں سیز فائر کرانے کا کریڈٹ نہ لیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے لیکن انڈین حکومت صدر ٹرمپ کو کریڈٹ دینے پر تیار نہیں۔ اسی وجہ سے بھارت اور امریکہ کے مابین چند ماہ پہلے والی گرمجوشی بھی دکھائی نہیں دیتی۔

پاکستان کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد جہاں عالمی و سفاری سطح پر مودی سرکار کو ہزیمت کا سامنا ہے وہیں بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتوں نے بھی پاکستان سے جنگ بندی کے معاملے کو سیاسی نعرہ بنا لیا  ہے اور اب تو کانگریس نے پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات کا ریکارڈ بھی رکھنا شروع کر دیا ہے اور اس کے رہنما ہر نئے بیان کے بعد اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا نہیں بھولتے۔

منگل کو صدر ٹرمپ نے پھر مئی کی پاک بھارت جنگ کو یاد کیا تو اگلے ہی دن یعنی بدھ کوانڈیا کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر لکھا ٹرمپ کے بیان پر ’56 انچ کی چھاتی خاموش ہے۔‘ جے رام رمیش نے ٹرمپ کی تقریر کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ کُل ملا کر 56واں موقع ہے جب امریکی صدر نے آپریشن سندور کو روکنے کی اچانک بات کی ہے۔‘ انہوں نے مودی کا نام لیے بغیر انہیں نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’خود کو 56 انچ کا سینہ کہنے والا اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے اور اب وہ خاموش ہے۔‘

خیال رہے کہ کانگریس رہنما کو یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے منگل کو رواں برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی ختم کرنے میں اپنے کردار کا ایک بار پھر ذکر کیا۔ صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) کے سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دورانکہا کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر فوجی کشیدگی کے دوران سات ’بالکل نئے اور خوبصورت طیارے‘ مار گرائے گئے تھے تاہم ان کی مداخلت کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تصادم رک گیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا ہو صدر ٹرمپ اس سے قبل امریکہ، قطر، سعودی عرب، مصر اور برطانیہ میں مختلف تقاریر کے دوران پہلے بھی ان خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ تام جنوبی کوریا میں کیے گئے اپنے حالیہ خطاب میں صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر وزیر اعظم مودی اور پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ انڈیا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے دوران سامنے آیا۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ’میں انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر رہا تھا، اور مجھے وزیر اعظم مودی کے لیے بہت احترام ہے۔ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ میں نے پڑھا کہ سات برینڈ نیو طیارے گرائے جا چکے ہیں۔ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور سخت لڑائی میں مصروف ہیں۔‘ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے مودی کو فون کر کے کہا ’اگر تم پاکستان سے جنگ کر رہے ہو تو ہم تمہارے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے، پھر میں نے پاکستان کو بھی یہی پیغام دیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں نے کہا، نہیں نہیں، ہمیں لڑنے دو۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’دو دن بعد دونوں ممالک نے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے ہیں، اور لڑائی بند ہو گئی-

بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ رہا ہے : خواجہ آصف

مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ ماہ قبل ختم ہونے والی جنگ نے جنوبی ایشیا کے سیاسی اور عسکری منظرنامے پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ٹرمپ نے مسلسل ایسے بیانات دیے ہیں جن میں پاک فضائیہ کی کارکردگی کی تعریف اور بھارتی ناکامیوں کی طنزیہ نشاندہی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ٹرمپ کے بیانات کو بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین ایک “ڈپلومیٹک گیم” کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ ہمیشہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ اور کشیدگی کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتا آیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ وقتی قربت اور بھارت کے ساتھ معاشی و تزویراتی تعلقات، دونوں امریکہ کے لیے اہم ہیں۔ ٹرمپ کے طنزیہ تبصرے دراصل ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی پالیسیوں، خصوصاً دفاعی معاہدوں اور خطے میں چین کے خلاف بننے والے اتحادوں میں زیادہ سرگرمی سے شریک ہو۔ ناقدین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کا طرزِ بیان، چاہے وہ طنز پر مبنی ہو یا سفارتی دباؤ کا حربہ، اس نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیا ہے۔ امریکی صدر کے بیانات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کا تسلسل سفارتکاری، میڈیا اور عوامی تاثر کے میدان میں بھی جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو محض فوجی برتری تک محدود نہ رکھے بلکہ انہیں سفارتی کامیابی میں بدل کر عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے۔

 

Back to top button