بھارت میں احتجاج کے بعد پاکستان میں 7سالہ پرانی ویڈیو کے چرچے کیوں؟

بھارت میں طلبہ کی حالیہ احتجاجی تحریک اور حکومتی سطح پر سامنے آنے والی تبدیلیوں کے بعد پاکستان میں بھی نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں، طلبہ یونینز اور احتجاجی سیاست پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بحث کے دوران سنہ 2019 کی ایک ویڈیو دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں نوجوان شاعر بسمل عظیم آبادی کی مشہور نظم "سرفروشی کی تمنا” پڑھتے ہوئے اور طلبہ یونینز کی بحالی کے حق میں نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ویڈیو لاہور میں شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں منعقدہ تقریب کی ہے، جہاں طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سات برس بعد، بھارت میں طلبہ احتجاج کے تناظر میں اسی ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر سیاسی اور سماجی مباحث کو جنم دے دیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی سماجی کارکن عروج اورنگزیب نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ردعمل میں کہا کہ جب پاکستان میں طلبہ یونینز، لاپتا افراد، انسانی حقوق اور دیگر عوامی مسائل پر آواز اٹھائی گئی تو ان تحریکوں کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ آج بھارت کی طلبہ تحریک کو مثال بنا کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے دونوں ممالک کے سیاسی اور قانونی ماحول کا تقابل کرتے وقت ان فرقوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
بھارت میں حالیہ طلبہ تحریک کا آغاز امتحانی نظام، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور عدالتی ریمارکس کے بعد ہوا۔ "کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کے نام سے شروع ہونے والی اس احتجاجی مہم نے مختصر وقت میں لاکھوں نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
احتجاج کے بعد بھارتی حکومت نے امتحانی اصلاحات، فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور شفاف امتحانی نظام کے لیے اقدامات کا اعلان کیا، جبکہ وزیر تعلیم نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریکوں کے بعد پاکستان میں بھی یہ سوال زیر بحث آیا کہ یہاں اسی نوعیت کی وسیع عوامی طلبہ تحریک کیوں سامنے نہیں آتی۔
جنوبی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے مختلف تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے کئی عوامل کی نشاندہی کی، جن میں طلبہ یونینز پر طویل عرصے سے پابندی، سیاسی تقسیم، مختلف سماجی تحریکوں کے درمیان عدم تعاون، ریاستی ماحول اور نوجوانوں کی منتشر سیاسی ترجیحات شامل ہیں۔
اس موضوع پر سوشل میڈیا پر بھی متضاد آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں نوجوان متعدد مواقع پر احتجاج کر چکے ہیں اور انہیں سخت حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جبکہ بعض دیگر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی، سماجی اور آئینی حالات خطے کے دیگر ممالک سے مختلف ہیں، اس لیے دونوں کا براہِ راست تقابل مناسب نہیں۔
مریم نواز کا آزاد کشمیر کیلئے بسوں کا تحفہ تنقید کی زدمیں کیوں؟
کچھ مبصرین نے یہ رائے بھی دی کہ احتجاجی تحریکوں کی کامیابی صرف عوامی شرکت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ سیاسی نظام، ادارہ جاتی ردعمل، قیادت اور عوامی اتحاد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم بھارت میں طلبہ احتجاج اور پاکستان میں اس پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر نوجوانوں کے سیاسی کردار، طلبہ یونینز کی بحالی، احتجاج کے حق، جمہوری عمل اور ریاستی ردعمل جیسے موضوعات کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر آراء مختلف ہیں اور ہر فریق اپنے تجربات اور سیاسی نقطۂ نظر کے مطابق اس بحث کو دیکھ رہا ہے۔
